بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ایک نکاح کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح کرنا


سوال

ایک شخص نے خفیہ طور پر نکاح  کر لیا تھااور نکاح کے دوران گواہ موجود نہیں تھے، پھر کچھ عرصہ کے بعد چونکہ خفیہ نکاح کا لڑکا یا لڑکی کے گھر والوں  میں سے کسی کو پتہ نہیں تھا۔  لڑکی کے گھر والوں نے اس کا رشتہ دوسری جگہ کردیا۔تو اب غرض سوال یہ ہے کہ پہلے نکاح کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح کرنا کیسا ہے ؟لڑکی کے نکاح ثانی کے بعد اگر زوج اول لڑکی سے رشتہ ختم کرنا چاہےتو صرف عزم کافی ہوگایاصراحتاًطلاق دینی پڑے گی۔اور کیا طلاق کی صورت میں لڑکی پر عدت گزارنا واجب ہوگا یا نہیں؟جب  کہ پہلے زوج اور لڑکی کے مابین خلوت صحیحہ اور دخول یعنی جماع  بھی ہوچکی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ  صحت نکاح کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا بطور گواہ موجود ہونا ضروری ہےگواہ کی غیر موجودگی میں نکاح فاسد رہتا ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق  لڑکے اور لڑکی کے درمیان باہمی رضامندی سے نکاح میں اگر گواہ موجود نہیں تھے تو وہ نکاح فاسد تھا جوکہ مفید ملک نہیں، تاہم اگر اس نکاح فاسد کے بعد جماع ہوا ہو تو پھر طلاق اورعدت گزارنے سے  پہلے دوسرا نکاح درست نہیں اس لیے اگر دوسری جگہ رشتہ سے مراد عقد نکاح ہو تو دوسرا نکاح بھی فاسد ہے نیز پہلے شوہرسے نکاح ختم ہونےکے لیے صرف عزم کافی نہیں، بلکہ قاضی کی فرقت یا شوہر کی طرف سے طلاق دینا ضروری ہے جس کے بعد تین حیض گزارنےاور یاحمل کی صورت میں وضع حمل سے عدت ختم ہوگی،عدت ختم ہونے کے بعد دوسری جگہ نکاح  کر سکتی ہے ۔

 

والمراد ‌بالنكاح ‌الفاسد النكاح الذي لم تجتمع شرائطه كتزوج الأختين معا والنكاح بغير شهود ونكاح الأخت في عدة الأخت ونكاح المعتدة.(البحرالرائق، كتاب النكاح، باب المهر،ج:3،ص:181)

المتاركة ‌في ‌الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة... وقال صاحب المحيط: وقبل الدخول أيضا لا يتحقق إلا بالقول... (وتجب ‌العدة ‌بعد ‌الوطئ) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركة في الاصح. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب النكاح، باب المهر، مطلب فى نكاح الفاسد،ج:4،ص:276)

‌من ‌أنها ‌تجب بثلاث حيض كوامل في الموطوءة بشبهة أو نكاح فاسد في الموت والفرقة اهـ أي إن كانت تحيض وإلا فثلاثة أشهر أو وضع الحمل.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب النكاح،باب المهر،مطلب في النكاح الفاسد،ج:4،ص:280)


فتویٰ نمبر : 6954/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں