بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوکر تسبیح نہ پڑھنے کی وجہ سے رکعت کا حکم


سوال

میں نے امام کو دوسری رکعت  کے رکوع میں پالیا لیکن جونہی میں رکوع  میں  داخل ہوگیا   توامام   قومہ  کے لیے اٹھ گیا  اور میں نے رکوع میں تسبیح  نہیں  پڑھی   لیکن امام کو رکوع میں پالیا تھا تو کیا میری رکعت امام کے ساتھ  ٹھیک ہے یا  اس رکعت  کا  دوبارہ  اعادہ کرنا ضرور  ی تھا؟

جواب

واضح رہے کہ   کسی  رکعت کو پانے کے لیے   ضروری ہے کہ  مقتدی امام  کے ساتھ  حالت قیام  میں    کسی  جزء میں شریک ہوجائے اور یا ایسی حالت میں جو کہ  قیام کے حکم میں ہو یعنی رکوع میں  ،نیز  اگر کسی نے امام کو  رکوع کی حالت میں ایک  لمحہ  کے لیے  پالیا ہو ،تو شرعی طور پر یہ کہا جائے گا کہ اس نے رکوع پالیا اور جس نے رکوع پالیا اس نے رکعت بھی پالی۔

 لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر سائل نے امام کو رکوع میں پالیا  ہولیکن رکوع میں تسبیح نہیں پڑھی  ، تو تب بھی یہ رکعت کو پانے والا شمار ہوگا  اور اس رکعت کا اعادہ  کرنے کی ضرورت  نہیں ۔

 

والحاصل أنه إذا وصل إلى حد الركوع قبل أن يخرج الإمام من حد الركوع فقد أدرك معه الركعة وإلا فلا.(حاشيةالطحطاوي على مراقي الفلاح، باب ادراك الفريضة، ص:455)

(ومن أدرك إمامه راکعاً فکبّر ووقف حتی رفع الإمام رأسه) من الرکوع، أو لم یقف،بل انحطّ بمجرد إحرامه فرفع الإمام رأسه قبل رکوع المؤتم (لم یدرک الرکعة) کما ورد عن ابن عمر، فکان الشرط لإدراك الرکعة، إما مشارکة الإمام في جزء من القیام، أوجزءٍ مما له حکم القیام وهو:الرکوع. (مراقي الفلاح شرح نور الایضاح، باب إدراك الفريضة مع الإمام وغيره، ص:271،272)


فتویٰ نمبر : 10060/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں