بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

ڈھائی ہزار سے زیادہ آبادی والے گاؤں میں جمعہ پڑھنے کا حکم


سوال

ہمارا گاؤں تِلی سیداں واقع ضلع تورغر مشکوٹ کا کنڈ مختلف محلہ جات پر مشتمل ہے۔اس گاؤں کی  ٹوٹل آبادی 350 گھرانو پر مشتمل ہے، جو کہ بشمول خواتین اور بچوں کے تقریباً  2800 افراد بنتے ہیں۔ہر محلے کا اپنا الگ نام اور الگ مسجد ہے مگر عرف میں تمام ایک ہی گاؤں تلی سیداں کہلاتا ہے۔  مختلف محلہ جات  علیحدہ علیحدہ ناموں سے ہیں مگر ان سب  پرتلی سیداں کا اطلاق ہوتا ہے ۔شادی بیاہ اور خیرات کی دعوت گھر گھر جا کر نہیں دی جاتی بلکہ اسی گاؤں کی مرکزی مسجد میں نصب لاوڈ اسپیکر پر اعلان کیا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے پورا علاقہ ایک ہی شمار ہوتا ہے ۔ علاقے کی مرکزی جامع مسجد میں بیک وقت علاقے کے تمام لوگ ( نمازی ) اگر آجائیں تو اس مسجد میں نہیں آسکتے کیونکہ جگہ کم پڑجاتی ہے ۔اس گاؤں کی واحد سڑک جو کہ اس علاقے کو اُوگی بازا ر ضلع مانسہرہ سے ملاتی ہے، وہ اوگی سے تلی پولیس چوکی تک  پختہ ہے اور چوکی سے تلی سیداں کی آبادی تک چار کلومیٹر روڈ پختہ ہے جب کہ دو کلومیٹر روڈ جو  کہ  آبادی کے اندر ہے وہ بھی پختہ ہے،علاقے کے اکثر راستے بھی سیمنٹ کے ہیں۔پہاڑ کی چوٹی پر پولیس چوکی موجود ہے جس کا عملہ دن یا رات کسی بھی معاملے  میں علاقے کے اندر مداخلت  کرسکتا ہے ۔روزانہ صبح (سوائے جمعہ    کے) علاقے کی 4،3 جیپیں اوگی بازار جاتی ہیں جو کہ تقریباً 35 کلومیٹر فاصلے پر ہے اور شام کو سودا سلف  لاتی ہیں۔ اگر صبح ہی جیپیں چلی جائیں تو پھر ضرورت کے وقت گاؤں میں موجود 1، 2 گاڑیوں کو بک کرنا پڑتا ہے یا پھر اوگی بازار سے منگوانی پڑتی ہے ۔

اس گاؤں میں فی الحال بجلی ، بینک ، پوسٹ آفس ، تھانہ ، قصاب کی دوکان ، پیٹرول پمپ ، ویلڈنگ ورکس ،ٹائر پنکچر شاپ ، فوٹوسٹیٹ ، سیمنٹ کی دوکان ، ایمبولینس ، MBBS ڈاکٹر ، کچہری عدالت ، لیڈی ڈاکٹر ، پٹواری نظام (فی الحال نافذ العمل نہیں) مسافر خانہ اور ہوٹل کی سہولت میسر نہیں ہے ۔ اگر باہر سے کوئی مسافر آجائے تو وہ کسی حجرے یا مسجد میں رات گزارے گا ۔ نیز دودھ دہی کی دوکان بھی نہیں ہے۔ بیکری بھی موجود نہیں ہے ،البتہ بیکری کے بعض آئٹم مثلاً بسکٹ ، نمکو ، ملک پیک ڈبوں کی صورت میں اکثر اوقات کریانہ کی دوکان سے مل جاتی ہے۔ اس گاؤں میں چار میڈیکل اسٹور 3 حجام کی دکانیں ، 2 کپڑوں کی دکانیں ، 2 درزی کی دوکانیں ، ایک آٹا چکی، ایک موچی کی دوکان ،ایک لوہار کی دوکان ایک بڑھئی کی دوکان اور 5 عدد کریانہ کی دوکانیں یعنی ٹوٹل 20 دکانیں ہیں۔ جس سے اکثر اوقات آٹا ،دالیں  ،ڈالڈا ،کوکنگ آئل، بچوں کے کھانے   پینے کی چیزیں ،ٹافیاں وغیرہ ،کولڈ ڈرنکس ،اسٹیشنری کا سامان ، کیلیں، تالے قبضے وغیرہ،سبزی ،انڈے ،مرغی زندہ مل جاتی ہے،بڑا گوشت نہیں ملتا۔  موبائل نیٹ اور ایزی پیسہ وغیرہ کی سہولت موجود ہے ۔ اس کے علاوہ بچے اور بچیوں کے لیے 05 عدد پرائمری سکول ایک گرلز مڈل سکول اور ایک بوائز ہائی سکول موجود ہے نیز سرکاری ڈسپنسری اور ویلیج   کونسل آفس بھی اسی گاؤں کے مرکز میں موجود ہے۔

مندرجہ بالا تفصیلات اور حقائق کی روشنی میں کیا  گاؤں تلی سیداں ضلع تور غر میں جمعہ کی نماز قائم کرنا شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟

یہ سوال اتفاق رائے سے تحریر کیا گیا ہے، قرآن و سنت و فقہ حنفی کی روشنی میں ہماری رہنمائی  فرمائیں۔

جواب

نمازِجمعہ کےوجوب کےلیےمتعلقہ علاقے کاشہر،فنائےشہریابڑاگاؤں ہوناضروری ہے۔موجودہ دور میں جس علاقے کی آبادی دو،ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہواور اکثر ضروریاتِ زندگی بھی وہاں میسرہوں تووہ بڑا گاؤں کہلاتاہے،لہذا اس میں جمعہ کی نماز پڑھنا درست ہے ۔

صورت مسئولہ میں اگر حسبِ سوال مذکورہ گاؤں تلی سیداں کے تمام محلے عرف میں ایک ہی گاؤں شمار ہوتے ہوں ،آبادی دو  ہزار سےمتجاوز ہواور بنیادی ضروریات میسر ہوں تو یہاں جمعہ پڑھنا درست ہے۔ 

 

لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى.(الهداية، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:1، ص:77)

أو كان أحدهما تبعا للآخر بحيث تجب الجمعة على ساكنه للاتحاد حكما.

(قوله: ‌أو ‌كان ‌أحدهما ‌تبعا للآخر) كالقرية التي قربت من المصر بحيث يسمع النداء على ما يأتي في الجمعة وفي البحر لو كان الموضعان من مصر واحد أو قرية واحدة فإنها صحيحة لأنهما متحدان حكما ألا ترى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر. ( الدرالمختار، كتاب الصلوة، باب صلوة المسافر، ج:1، ص:126)


فتویٰ نمبر : 10067/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں