بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

والد کااپنی جائیداد ایک وارث کو کم دوسرے کو زیادہ دینے کا حکم


سوال

کیا والد اپنی ساری جائیداد کسی ایک بیٹے کو ہبہ کرسکتا ہے یا ایک وارث کو کم اور دوسرے کو زیادہ دے سکتا ہے یا نہیں  اگرچہ دوسرے ورثاء جن کو کم حصہ دیا ہےراضی نہ ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ زندگی میں اولاد میں تقسیم کی جانے والی جائیداد ہبہ ہے، وراثت نہیں  اور اولاد کو ہبہ کرنے کے متعلق حکم یہ ہے کہ تمام اولاد(بیٹے اور بیٹیوں ) میں برابری کی جائے،  ضرر  پہنچانے کی نیت سے ایک کو کم اور دوسرے  کو زائد نہ دیا جائے،البتہ کسی معقول وجہ کی بنا پر  ترجیحی سلوک کی گنجائش ہے، مثلا : کوئی بچہ معذور ہو ، یا زیادہ محتا ج ہو، یا زیادہ تابع داراور خدمت گزار ہو، یا زیادہ دین دار ہو ؛ تو ایسی صورت میں ترجیحی سلوک کی گنجائش ہے ۔

 صورت مسئولہ کے مطابق والدحالتِ حیات میں اپنے کسی ایک وارث کو ساری جائیداد ہبہ کرے تو نافذہے لیکن اس سے وہ گناہ گار ہوگا ۔

 

"وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة، لأنها عمل القلب، وکذا فی العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصد فسوی بينهم يعطي الإبن کالبنت عند الثانی وعليه الفتویٰ ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.." (رد المحتار على الدر المختار، کتاب الهبة،ج:5،ص:696)


فتویٰ نمبر : 5880/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں