بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

نذر پوری نہ کر سکنے کی صورت میں کفارہ کا حکم


سوال

میں ایک ادارے میں ملازم ہوں کچھ عرصہ پہلے میں نے   اپنے آپ سے عہد کر کے کہا تھا کہ اگر میں نے نا جائز سفارش پر کسی کا کام کیا  تو میں دو مہینے لگاتار روزے رکھوں گا۔  پھر نوکری کے خطرے میں پڑھنے کی وجہ سے  میں اپنی بات پر پورا نہ اتر سکا،میں نے دو مہینے لگاتار روزے رکھنے شروع بھی کیے، لیکن دس روزے رکھنے کے بعد گردوں کے مسائل کی وجہ سے اب میں مزید پچاس روزے نہیں رکھ سکتا، اب میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ اگر نذر کو کسی ایسے کام پر معلق کیا جائے جس سے بچنا مطلوب ہو تو وہ کام کرنے کی صورت میں اصل اور بہتر یہی ہے کہ جس عبادت کی نذر مانی ہو، وہ ادا کرے، البتہ قسم کا کفارہ ادا کرنے کی بھی گنجائش ہوتی ہے۔

 صورتِ مسؤلہ کے مطابق چونکہ مذکورہ نذر کا مقصد گناہ سے بچنا تھا، اس لیے اگر   سائل دو ماہ مسلسل روزے نہیں رکھ سکتا  تو وہ قسم کا کفارہ ادا کرے اس سے بھی  اس کی نذر پوری ہوجائے گی۔ قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار  نصف صاع(یعنی پونے دو کلو گندم) یا اس کی قیمت دے دے،  یا دس فقیروں میں سے ہر ایک کو ایک  ایک جوڑا کپڑا دے دے۔ اور اگر کھانا کھلانے یا کپڑا دینے پر قدرت نہ ہو تو مسلسل  تین روزے رکھے گا۔

 

قال الله تعالی: ﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (المائدة: 89)

ومن نذر نذرا مطلقا فعليه الوفاء؛ لقوله عليه الصلاة والسلام "من نذر وسمى، فعليه الوفاء بما سمى"، وإن علق النذر بشرط فوجد الشرط فعليه الوفاء بنفس النذر لإطلاق الحديث، ولأن المعلق بشرط كالمنجز عنده. وعن أبي حنيفة رحمه الله أنه رجع عنه وقال: إذا قال: إن فعلت كذا فعلي حجة أو صوم سنة أو صدقة ما أملكه، أجزأه من ذلك كفارة يمين. وهو قول محمد رحمه الله، ويخرج عن العهدة بالوفاء بما سمى أيضا. وهذا إذا كان شرطا لا يريد كونه؛ لأن فيه معنى اليمين، وهو المنع، وهو بظاهره نذر، فيتخير ويميل إلى أي الجهتين شاء. بخلاف ما إذا كان شرطًا يريد كونه، كقوله "إن شفى الله مريضي"؛ لانعدام معنى اليمين فيه، وهو المنع(الهداية،كتاب الأيمان، فصل في الكفارة،  ج: 2،  ص: 480)

 


فتویٰ نمبر : 10056/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں