بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

نسبی بہن کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا


سوال

سدرہ نامی لڑکی تسلیم بی بی کی رضاعی بیٹی ہے ،اب سدرہ کا بھائی ذیشان تسلیم بی بی کی بیٹی علیشہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے آیا ذیشا ن کا نکاح تسلیم بی بی کی بیٹی علیشہ سے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے دودھ پینے  والے بچے کے لیے دودھ پلانے والی عورت اور اس کے اصول و فروع سے نکاح جائز نہیں ،لیکن یہ حرمت صرف اس دودھ پینے والے بچے کے  ساتھ خاص ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  ذیشان کی نسبی بہن سدرہ  نے جب تسلیم بی بی کا دودھ پیا ہے تو اس پر تسلیم بی بی کے اصول و فروع حرام ہیں ، البتہ اس کے بھائیوں پر حرام نہیں ،اس لیے ذیشان کا نکاح تسلیم بی بی  کی بیٹی علیشہ سے جائز ہے۔ بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو ۔

 

عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة.(سنن ابي داؤد، كتاب النكاح، باب ما يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب،رقم الحديث:2055، ج:2، ص:177)

ولو ‌أرضعت ‌أمه جارية لها إخوة وأخوات كان له أن يتزوج أخوات تلك الجارية؛ لأن التي أرضعتها الأم أخته من الرضاعة، ولا سبب بينه وبين أخواتها.(المبسوط للسرخسى، كتاب الرضاع، باب تفسير لبن الفحل، ج:3، ص:301)


فتویٰ نمبر : 6956/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں