بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مضارب کی کوتاہی کی وجہ سے نقصان ہونا


سوال

اگر عقد مضاربت میں مال کا نقصان مضارب کے عمل اور کوتاہی کی وجہ سے ہو تو اس نقصان کا ذمہ دار کون ہو گا ،مضارب (عمل کرنے والا)یا   رب المال(انویسٹر)؟

جواب

واضح رہے کہ عقد مضاربت میں نفع اور نقصان سے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ نفع دونوں کے درمیان حسب معاہدہ فیصد کے تناسب سے تقسیم ہو گا،جبکہ نقصان اگر مضارب کی غفلت  اور کوتاہی کی وجہ سے ہو تو اس  نقصان کو اس پر عائد کیا جائے گا  اور وہی سارا نقصان برداشت کرے گا،البتہ اگر نقصان مضارب کی کوتاہی اور غفلت کے  بغیر ہوا تو اس صورت میں اولا حاصل شدہ نفع سے نقصان پورا کیا جائے گا،اور اگر نقصان اس سے بھی زیادہو تو اس کا ذمہ رب المال(انویسٹر)پر ہو گا اور مضارب کی محنت ضائع ہو جائے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر مضارب کی کوتاہی کی وجہ سےنقصان ہوا ہو تو جتنے مال کا نقصان ہوا اُتنے مال کا مضارب ضامن ہو گا۔

 

والمضارب أمين وبالتصرف وكيل وبالربح شريك وبالفساد أجير ‌وبالخلاف ‌غاصب۔(تبیین الحقائق،کتاب المضاربۃ،ج:5ص:53)

إذا تجاوز المضارب حد مأذونيته و خالف الشرط كان غاصبا ۔(شرح المجلة،كتاب المضاربة،ج:2ص:753،المادة:1321)

(‌وإن ‌خالف) ‌المضارب ‌شرط ‌رب ‌المال (‌فغاصب) ولو أجاز بعده؛ لوجود التعدي منه على مال غيره فصار غاصبا، فيضمن۔(مجمع الأنهر،كتاب المضاربة،ج:2ص:322)


فتویٰ نمبر : 3565/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں