بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

آئس استعمال کرنے کا حکم


سوال

 آئس نشہ کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روسے انسان اپنے بدن اور صحت کا مالک نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے چنانچہ صحت،عقل اور بدن کے لیے جو چیزیں یقینی طور پر ضرررساں ہوں ان کا استعمال شرعاً جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق آئس جسے ”کرسٹل میتھ “بھی کہتے ہیں ایک کیمیائی عمل سے تیار کردہ خطرناک نشہ ہے جو انسانی صحت کے لیے نہایت مضر ہے، لہذا اس کا استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔

 

﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴾ (البقرة:195)

(‌ويحرم ‌أكل ‌البنج والحشيشة).هي ورق القنب (والافيون) لانه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة (لكن دون حرمة الخمر، فإن أكل شيئا من ذكل لا حد عليه وإن سكر) منه (بل يعذر بما دون الحد) كذا في الجوهرة.(الدرالمختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الاشربة، ص:678)


فتویٰ نمبر : 6226/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں