بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

شرکت ختم کرنے کی صورت میں تقسیم کا طریقہ


سوال

اگر بزنس پارٹنرز کا سرمایہ 40 اور60 فیصد کے حساب سے ہو اور نفع بھی اسی فیصد کے اعتبار سے طے کیا گیا ہو، تو مستقبل میں اگر یہ شرکت ختم کریں گے تو ان کا سرمایہ، کمپنی کا سازو سامان اور سب سے اہم کمپنی کا نام (گڈول) دونوں پارٹنرز کس طرح تقسیم کریں گے؟

جواب

جب دو شریک شرکت ختم کرنا چاہیں اور تمام اثاثہ جات نقد شکل میں ہوں، تو پہلےہر شریک کا راس المال (سرمایہ) الگ کیا جائے، پھرباقی ماندہ منافع طے شدہ معاہدے کے مطابق تقسیم کیا جائے۔ لیکن اگراثاثہ جات جامد صورت میں بھی ہوں، تو پہلے ان کو فروخت کرکے نقد کی شکل میں تبدیل کیا جائے یااسی حالت میں بازاری قیمت معلوم کی جائے پھر حاصل ہونے والی کل مالیت سے پہلے ہر شریک کا راس المال نکالا جائے، اور باقی ماندہ منافع طے  شدہ معاہدے کے مطابق تقسیم کیاجائے۔نیز کمپنی کانام (گڈول) ایک ایسی چیز ہے جس کا نہ خارج میں کوئی وجود ہے اورنہ ہی اس پر شرعاً مال کا اطلاق ہوتاہے، بلکہ یہ نیک نامی  ایک حیثیت عرفیہ ہے، جس کو فقہی اصطلاح میں حق مجرد کہا جاتا ہے، اورحقوق مجردہ  کا مستقل طورپر بیع کرنا یا اس کے مقابلے میں مستقل عوض  لینا جائز نہیں، لیکن اگر "گڈول" یعنی کمپنی کے نام کی قانونی طور پر باقاعدہ رجسٹریشن کروالی جائے تو قانوناً یہ ایک ثابت شدہ حق بن جائے گا اور شرعا بھی اس کا اعتبار ہوگا، ایسی صورت میں اس کی خریدو فروخت کی بھی گنجائش نکل سکتی ہے۔ نیز "گڈول " کو کسی دوسری چیز کے تابع کرکے اس چیز کی مجموعی قیمت بڑھائی جاسکتی ہے۔ لہذا شرکت کے خاتمے پر گڈول کو موجود اثاثہ جات یا اس کاروبار کے کسی ایک حصہ کی قیمت کےساتھ شامل کیا جاسکتاہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر بزنس پارٹنرز شرکت ختم کرنا چاہیں ،تو پہلے کمپنی کا سازو سامان جو جامد صورت میں ہو، فروخت کرکے نقدی شکل میں تبدیل کریں یا اس کی بازاری قیمت لگائیں، اورگڈول کواس کاروبار کے کسی ایک حصہ کی قیمت کے ضمن میں شمار کریں، پھرحاصل ہونے والی تمام مالیت میں سے، اول ہرشریک اپنا اصل سرمایہ الگ کرکے لے لیں، پھراگر باقی بچے تو وہ منافع شمارہوگا، جو معاہدے میں طے شدہ نفع کے حساب سے آپس میں تقسیم کریں۔

 

وشركة عقد وهي أن يقول أحدهما شاركتك في كذا ويقول الآخر قبلت، هكذا في كنز الدقائق ۔ ۔ ۔ وحكم شركة العقد صيرورة المعقود عليه وما يستفاد به مشتركا بينهما، كذا في محيط السرخسي. أما الشركة بالمال فهي أن يشترك اثنان في رأس مال فيقولا اشتركنا فيه على أن نشتري ونبيع معا أو شتى أو أطلقا على أن ما رزق الله عز وجل من ربح فهو بيننا على شرط كذا أو يقول أحدهما ذلك ويقول الآخر نعم، كذا في البدائع.(الفتاوى الهندية ۔كتاب الشركة، ج:3، ص:301،302)

وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة. المذهب عدم اعتبار العرف الخاص لكن أفتى كثير باعتبارهوعليه فيفتى بجواز النزول عن الوظائف بمال.(الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب البيوع، ج:4، ص:518)

و یبدو لهذا العبد الضعیف عفا الله عنه أن حق الاسم التجاری و العلامات التجارية، و ان کان فی الأصل حقا مجردا غیر ثابت فی عین قائمة، و لکنه بعد التسجیل الحکومی الذی یتطلب جهدا کبیرا و بذل اموال جمة، و الذی تحصل له بعد ذلک صفة قانونية تمثلها شهاداة مكتوبة بید الحامل و فی دفاتر الحکومة، أشبه الحق المستقر فی العین، و التحق فی عرف التجار بالأعیان، فینبغی أن یجوز الاعتیاض عنه علی وجه البیع أیضا.(فقه البيوع ج:1، ص:277)

حقوق إحداث عقد أو إبقائه: والنوع الخامس من الحقوق هي الحقوق التي يستحق بها صاحبها أن يحدث عقدا مع غيره أو يبقيه، مثل خلو الحوانيت و حق القرار، و حق الوظائف السلطانية، وقد جوز بعض الفقهاء الإعتياض عنهما، ويندرج في هذا القسم حقوق الطبع والنشر، ۔ ۔ ۔ و يدخل في هذا القسم حق خلو المتجر (گڈول) أيضا، فقد شاع في عصرنا بيع الأسماء التجارية، فمن اشتهر اسم متجرة بأن المشترين يميلون إلى ذلك الإسم يبيع اسم متجر فقط وهو في الحقيقة بيع لإحداث العقود مع المشترين بهذا الإسم الخاص، وقد أفتى حكيم الأمة مولانا الشيخ أشرف علي التهانوي رحمه الله بأن في هذا البيع سعة، وقاسه على جواز النزول عن الوضائف بمال.(تكمله فتح الملهم، كتاب البيوع، مبحث بيع الحقوق المجردة، ج:0، ص:254)


فتویٰ نمبر : 3576/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں