بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
نکاح مسیار کا حکم
سوال
کچھ وقت پہلے میرے ساتھ کام کرنے والی ایک عورت کا مجھ سے رابطہ اوربات چیت ہوئی، بات آگے بڑھی اور اس عورت نے نکاح کا ڈیمانڈ کیا، وہ عورت مجھ سے 7 سال بڑی ہے، طلاق یافتہ ہے، اور گھر والے اس کی شادی نہیں کروا رہے ہیں۔ میں بھی شادی شدہ ہوں اور کماتا ہوں لیکن سیلری سےصرف میری بیوی اور گھر والوں کا خرچہ پورا ہو سکتا ہے، اس لیے اس عورت نے مجھ سے یہ کہا کہ:" بس تم مجھ سے نکاح کر لو، میں تم پر بوجھ نہیں بنوں گی، نہ کچھ ڈیمانڈ کرونگی، بلکہ اپنے گھر میں رہونگی، ڈیڑھ سال بعد میں اپنے کچھ ادھار اترنے کے بعد گھر والوں کو بتا دونگی کہ میں نے نکاح کیا ہے اور پھر میں الگ گھر کرائے پرلے لونگی اور ہم دونوں وہاں رہیں گے، میں اپنا خرچہ خود اٹھا سکتی ہوں، میرا نان نفقہ تم پر نہیں ہوگا، ابھی سے معاف کرتی ہوں، اورتم اپنی سیلری سےاپنی بیوی اور گھر والو ں کا خرچہ پورا کیا کرو، میں اپنا خرچہ خود پورا کرونگی کیونکہ میں عفت کے ساتھ زندگی گزرانا چاہتی ہوں"۔ اس عورت نے اصرار کیا اور یہاں تک کہا کہ میں اتنا سب کرنے کو تیار ہوں تم صرف نکاح تک نہیں کر سکتے ہو، مجھے صرف اپنا نام تک نہیں دے سکتے ہو؟ اس عورت کے اصرار پراور سب شرائط کے بعد ہم دونوں نے نکاح کرلیا، نکاح دو گواہوں کی موجودگی میں ہوا، عورت نکاح میں خود شریک تھی جبکہ اس کا کوئی ولی نہیں تھا کیونکہ اس کے گھر والے اس کی شادی نہیں کروانا چاہتے، حق مہر بھی طے ہوا، اور سنت کے مطابق نکاح ہوا۔ اب کچھ دن گزرنے کے بعد ایک قریبی شخص کو اس بات کا علم ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ "یہ تو نکاحِ مسیار ہے ، اور نکاحِ مسیارجائز نہیں ہے" اب چونکہ ہمارانکاح بھی ہو چکا ہے اورنکاح ہونے کے بعد یہ سب چیزیں معلوم ہورہی ہیں ، اب آپ اس میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا کیا جائے ؟ کیا یہ نکاح صحیح نہیں ہے ؟ کیا اِس نکاح کو باقی رکھنا چاہیے ان سب چیزوں اور شرائط کے ساتھ یا اِس نکاح کو ختم کردینا چاہیے ؟ہمیں نکاح مسیار کے بارے بہت الگ الگ رائے معلوم ہوئی ہیں اور بہت اختلاف ہے آپ تفصیل سے اس میں رہنمائی فرمائیں ؟نوٹ: وہ عورت بھی نہیں چاہتی کہ میں اس کو چھوڑوں وہ ہر حال میں ساتھ رہنا چاہتی ہے،اور میں بھی اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ ایک بات جو نکاح مسیار کے اندر ہوتی ہے کہ طلاق کی نیت سے اور طلاق کا ایک وقت مقرر کر کے نکاح کیا جاتا ہے ،لیکن ہمارے درمیان ایسا کوئی طلاق کا وقت یا ایسی کوئی نیت نہیں تھی۔
جواب
مسیار کے نام سے جو نکاح معروف ہے اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص حالت سفرمیں ہو یا تعلیم یا ملازمت وغیرہ کے لیے دوسرے شہر یا ملک میں جائے اور وہاں اپنی طبعی خواہش پوری کرنے کے لیےکسی عورت سے اس نیت سےنکاح کرتا ہے کہ جب وہاں سے اپنےوطن واپس جائےگا تو اس عورت کو طلاق دے دےگا، نیز اس نکاح میں عورت بھی اپنے بعض بنیادی حقوق مثلاً: نان، نفقہ وغیرہ سے دست بردار ہوتی ہے۔ چونکہ اس نکاح سے زوجین کا مقصود نسل انسانی کی افزائش اور بقا و حفاظت نہیں ہوتی بلکہ محض اپنی خواہش کی تکمیل ہوتی ہے، نیز اس میں نکاح کرتے وقت مرد کی نیت کچھ عرصہ بعد طلاق دینےکی ہوتی ہے اگر چہ زبان سے اس کا تذکرہ نہیں کرتا، اس لیے نکاح موقت کے ساتھ اس کی مشابہت ہوتی ہے نیزاس میں بلاوجہ بیوی کو طلاق دینا ہوتا ہے جو اللہ تعالی کے ہاں حلال چیزوں میں سب سے مبغوض ترین چیز ہے،اس لیے ان مفاسد کی وجہ سے اس کی شرعاً اجازت نہیں دی جاسکتی، تاہم اگر کسی نے دو گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کرلیا ہو اور بوقت عقد ،نکاح کے مؤقت ہونے کی کوئی شرط نہ لگائی ہو اور نہ ایجاب و قبول میں نکاح مسیار کی تصریح کی ہو تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہوجاتا ہے۔
محررہ حالات کی روشنی میں اگر واقعی زوجین نے دو گواہوں کی موجودگی میں مہر مقرر کرکے نکاح کیا ہواور دونوں نے نکاح کے لیے کسی وقت کی تحدید نہ کی ہوبلکہ میاں بیوی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہوں توشرعا یہ نکاح منعقد ہو چکا ہے اور اس کا نکاح مسیار سے کوئی تعلق نہیں۔
وإيقاع الطلاق مباح وإن كان مبغضا في الأصل عند عامة العلماء ومن الناس من يقول لا يباح إيقاع الطلاق إلا عند الضرورة لقوله صلى الله عليه وسلم: "لعن الله كل ذواق مطلاق".(المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، ج:6، ص:2)
(والنكاح المؤقت باطل) مثل أن يتزوج امرأة بشهادة شاهدين إلى عشرة أيام۔والذي يفهم من عبارة المصنف في الفرق بينهما شيئان: أحدهما وجود لفظ يشارك المتعة في الاشتقاق كما ذكرنا آنفا في نكاح المتعة. والثاني شهود الشاهدين في النكاح الموقت مع ذكر لفظ التزويج أو النكاح وأن تكون المدة معينة۔۔۔ولنا أنه أتى بمعنى المتعة) بلفظ النكاح لأن معنى المتعة هو الاستمتاع بالمرأة لا لقصد مقاصد النكاح وهو موجود فيما نحن فيه لأنها لا تحصل في مدة قليلة۔ (والعبرة في العقود للمعاني) دون الألفاظ۔(العناية شرح الهداية، كتاب النكاح، فصل في بيان المحرمات، ج:2، ص:246)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں