بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

اسلام اور اپنے ملک کے لیے جاسوسی کرنا


سوال

اسلام اور پاکستان کے تحفظ کے لیے جاسوسی کی ملازمت کرنے والے کی کمائی کا شرعی حکم کیا ہے ؟اور مقاصد شریعت میں سے کس کی بنا پر اس کی کمائی حلال ٹھہرائی جا سکتی ہے؟

جواب

ہمیشہ ملک دشمن قوتوں کی کوشش ہوتی ہےکہ دوسرےملک کےخفیہ ٹھکانوں، اسلحہ کےذخائر، ان کےدفاعی منصوبوں اور اہم افرادکو کسی طریقہ سے نقصان پہنچائے،اپنے اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے وہ مختلف قسم کےمنصوبے بناتے ہیں،اس وجہ سےاگر کوئی شخص دشمن کے ان منصوبوں کو ناکام بنانے کی غرض سے،یا دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لیےجاسوسی کی ملازمت کررہا ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں،چنانچہ رسول اللہ ﷺ نےبھی حضرت حذیفہ ؓکو غزوہ احزاب کے موقع پر دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

نیزحضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنےدور ِخلافت میں اسلامی مملکت  کا نظم و نسق چلانے کے لیے مختلف طبقات و عمال کےلیے وظائف اور تنخواہیں مقرر کی تھیں ، لہذا بیت المال سےحکومتی ملازمین کے لیے باقاعدہ تنخواہیں مقرر کرنااور ان کا تنخواہ لیناجائز ہے۔

 

"عن إبراهيم التيمي ، عن أبيه قال: « كنا عند حذيفة ، فقال رجل: لو أدركت رسول الله صلى الله عليه وسلم قاتلت معه وأبليت. فقال حذيفة: أنت كنت تفعل ذلك! لقد رأيتنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة الأحزاب وأخذتنا ريح شديدة وقر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا رجل يأتيني بخبر القوم، جعله الله معي يوم القيامة. فسكتنا، فلم يجبه منا أحد. ثم قال: ألا رجل يأتينا بخبر القوم، جعله الله معي يوم القيامة. فسكتنا، فلم يجبه منا أحد. ثم قال: ألا رجل يأتينا بخبر القوم، جعله الله معي يوم القيامة. فسكتنا، فلم يجبه منا أحد. فقال: قم يا حذيفة، فأتنا بخبر القوم. فلم أجد بدا إذ دعاني باسمي أن أقوم، قال: اذهب فأتني بخبر القوم، ولا تذعرهم علي. فلما وليت من عنده جعلت كأنما أمشي في حمام حتى أتيتهم، فرأيت أبا سفيان يَصلي ظهره بالنار، فوضعت سهما في كبد القوس، فأردت أن أرميه، فذكرت قول رسول الله صلى الله عليه وسلم: ولا تذعرهم علي. ولو رميته لأصبته، فرجعت وأنا أمشي في مثل الحمام، فلما أتيته فأخبرته بخبر القوم وفرغت قررت، فألبسني رسول الله صلى الله عليه وسلم من فضل عباءة كانت عليه يصلي فيها، فلم أزل نائما حتى أصبحت، فلما أصبحت قال: قم.(الصحیح لمسلم، ‌‌باب غزوة الأحزاب، رقم الحديث: 1788)

"عن عبد الله بن ‌أبي قيس أن ‌عمر صعد المنبر فحمد الله، ثم قال: أما بعد فقد أجرينا عليكم أعطياتكم، وأرزاقكم في كل شهر، قال وفي يده المدى والقسط، ثم قال:خذ كليهما فمن انتقصهما ففعل الله به كذاوكذا قال: فدعا عليه".(كنزالعمال، باب في أحكام الجهاد،  ‌‌فصل الأرزاق والعطايا،‌‌ ج:4، ص:576، رقم:11688)


فتویٰ نمبر : 5937/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں