بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

پیسوں کی ویلیو گرنے کی صورت میں قرض کی ادائیگی کا حکم


سوال

میں نے بیس سال پہلے پچیس ہزار(25000) روپے لیےتھے، کسی وجہ سے اس شخص کو رقم  ادا نہ کرسکا اب میں ان پیسوں کو لوٹانا چاہتا ہوں، ظاہر ہے پیسوں کی ویلیو بیس سال بعد کم ہوگئی ہے، تو اب کتنے پیسے ادا کروں گا؟

جواب

قرض  کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جس مقدار میں قرض لیاجائے اتنی ہی مقدار واپس کرنالازم ہوتا ہے، چاہے جتنے عرصے بعد واپسی ہو، قرض میں دی گئی رقم کی ویلیو گھٹنے یا بڑھنے کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق سائل نے جوپچیس ہزار روپے قرض لیےتھے تو اب قرض کی واپسی پر پچیس ہزار  روپے ادا کرنا ہی لازم ہے،اگر چہ عرصہ گزرنے سے اس کی ویلیو کم ہوگئی ہو ۔

 

"إن الديون تقضى بأمثالها"۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الشرکة،مطلاب في قبول قوله دفعت المال،  ج:6، ص:495)

"وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي  أخذه، وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها"۔(ردالمحتار،کتاب البيوع،  باب المرابحة والتولية،فصل في القرض، ج:6، ص:390)

"(سئل) في رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم،و تصرف بها،ثم غلا سعرها،فهل عليه رد مثلها؟ (الجواب) نعم ولا ينظرإلى غلاالدراهم ورخصها"۔(تنقيح الحامدية،باب القرض،ج:1،ص:294)


فتویٰ نمبر : 3564/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں