بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عین قبلہ سے سولہ ڈگری کے فرق پر بنی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا


سوال

ہماری مسجد جو عسکری کالونی میں واقع ہے، کی تعمیر نو میں قبلہ رخ کو 270 ڈگری پر رکھا گیا ہے، جبکہ ہماری  معلومات کے مطابق پشاور میں قبلہ رخ 254 ڈگری ہے کیا اس مسجد میں نماز پڑھنا درست ہے یا اس کی  صفوں کو 254 ڈگری پر موڑا جائے۔

نوٹ: تعمیر نو سے پہلے بھی قبلہ کا رخ 270 ڈگری پر ہی رکھا گیا تھا۔

جواب

واضح رہے کہ قبلہ کی طرف رخ  کرنا نماز کی شرائط میں سے ہے۔ جن لوگوں کو بیت اللہ نظر آتا ہو ان کے لیے عین ِ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا فرض ہے اور عینِ کعبہ سے انحراف کی صورت میں نماز ادا نہ ہو گی ،البتہ  جن کو بیت اللہ نظر نہ آتا ہو ان کے لیے  عین ِ کعبہ کی طرف  رخ کر کے نماز پڑھنا ضروری نہیں،  بلکہ جہتِ  قبلہ کی طرف  رخ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے اور جہتِ قبلہ عینِ قبلہ سے دائیں بائیں  45،45 ڈگری تک ہے ۔لہذا اگر نمازی  عین قبلہ سے اتنا انحراف  کرے کہ وہ دائیں یا بائیں  45 ڈگری کے اندر ہو تو ایسی صورت میں  اس کی نماز ادا ہو جائے گی.

صورت کے مطابق اگر پشاور میں عین قبلہ  254 ڈگری پر ہواور  مسجد کی تعمیر نو میں قبلہ رخ کو 270 ڈگری پر رکھا گیا ہو  تو ان دونوں میں تقریباً 16 ڈگری کا فرق ہے، اس لیے 270 ڈگری پر چھوڑنے کی گنجائش ہےاور  صفوں کو 254 ڈگری  کے مطابق موڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

(إصابة عينها) يعم المعاين وغيره لكن في البحر أنه ضعيف. والأصح أن من بينه وبينها حائل كالغائب، وأقره المصنف قائلا: والمراد بقولي فللمكي مكي يعاين الكعبة (ولغيره) أي غير معاينها (إصابة جهتها).

وجهتها أن يصل الخط الخارج من جبين المصلي إلى الخط المار بالكعبة على استقامة بحيث يحصل قائمتان. أو نقول: هو أن تقع الكعبة فيما بين خطين يلتقيان في الدماغ فيخرجان إلى العينين كساقي مثلث، كذا قال النحرير التفتازاني في شرح الكشاف، فيعلم منه أنه لو انحرف عن العين انحرافا لا تزول منه المقابلة بالكلية جاز، ويؤيده ما قال في الظهيرية: إذا تيامن أوتياسر تجوز لأن وجه الإنسان مقوس لأن عند التيامن أو التياسر يكون أحد جوانبه إلى القبلة اهـ كلام الدرر، وقوله في الدرر على استقامة متعلق بقوله يصل لأنه لو وصل إليه معوجا لم تحصل قائمتان بل تكون إحداهما حادة والأخرى منفرجة كما بينا. ( رد المحتار على الدرمختار، ‌‌باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج:1، ص:404)


فتویٰ نمبر : 10053/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں