بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

موبائل فون کے ذریعے سونے کی خرید و فروخت کرنا


سوال

میں سونے کا کاروبار کرتا ہوں ،میں اکثر موبائل کے ذریعے سونا خریدتا ہوں کیونکہ بازار ہم سے 15 کلومیٹر دور ہے،پھر اگلے دن روپے لیکر اس دوکاندار کو دیتا ہوں ،جس سے ایک دن پہلے موبائل کے ذریعے سونا خریدا تھا ۔ شریعت کے روسے یہ کیسا ہے ؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہی سونا جس کو میں نے موبائل کے ذریعے خریدا تھا ، ابھی میں نے دوکاندار کو پیسے ادا نہیں کئے ۔ پیسے ادا کرنے اور قبضہ کرنے سے پہلے کیا میں اس کو آگے بیچ سکتا ہوں یا نہیں۔ اگر ناجائز ہے تو کیاکوئی جائز صورت ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص سونا خریدنے کا عقد کرے اور مجلس عقد میں فریقین  میں سے کوئی ایک بھی   قبضہ نہ کرے  تو یہ بیع جائز نہیں ،اور نہ   ہی کوئی شخص  سونے کو اپنے قبضہ میں لینے سے پہلے آگے فروخت کر سکتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص بذریعہ موبائل سونا    خریدے اور مجلس عقد کے اندر  نہ بائع    پیسوں پر قبضہ کرے  اور نہ مشتری  سونے پر  قبضہ کرےتو یہ بیع جائز نہیں ،اور مشتری  کے لیے سونے  کو اپنے قبضہ میں لینے سے پہلے آگے فروخت کرنا بھی جائز نہیں ۔البتہ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ بذریعہ موبائل دونوں (بائع اور مشتری) اس سونے کی خرید و فروخت  کاوعدہ بیع کریں ،اور بعد میں جب مشتری بائع کی دکان میں جائے تو ایجاب و قبول کر کے مجلس عقد کے اندر قبضہ کریں۔  یا مشتری سونے کے خریدنے کا معاملہ طے کرتے وقت کسی کو اپنا وکیل بنائے جو بائع سے سونا اپنے قبضہ میں لے،اس صورت میں یہ شخص وکیل بالقبض ہو گا اور وکیل کا قبضہ اصل مؤکل ہی کا قبضہ ہوتا ہے،پھر مشتری کے لیے بذریعہ موبائل آگے سونا فروخت کرنا جائز ہے۔ مگر اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ مجلس عقد کے اندر  سونے یا رقم میں سے ایک پر قبضہ کیا جائے  ،چاہے  خود قبضہ کرے یا وکیل کے ذریعے  سے قبضہ کرے۔

 

لو ‌باع ‌فضة بفلوس أو ذهب بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما، كذا في الذخيرة۔(البحرالرائق،كتاب الصرف،ج:6ص:211)

سئل ‌الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة. فأجاب: بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين لما في البزازية لو اشترى مائة فلس بدرهم يكفي التقابض من أحد الجانبين۔(رد المحتار على الدرالمختار،باب الربا،ج:5ص:180)

‌لأنها ‌بيع، ‌فيكفي قبض أحد البدلين، ولو لم يعطه الدراهم ولم يأخذ الفلوس حتى افترقا بطل في الكل للافتراق عن دين بدين۔(رد المحتار على  الدرالمختار،باب الصرف،ج:6ص:221)

‌قبض ‌الوكيل بمنزلة قبض الموكل من حيث إن الوكيل في القبض عامل للموكل۔(المحيط البرهاني،‌‌الفصل الثاني عشر: في الوكالة في الصرف،ج:8ص:340)


فتویٰ نمبر : 3566/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں