بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مذاق میں کیے گئے نکاح کا حکم


سوال

آج کل  کالجز میں یہ بات بہت عام ہے کہ لڑکیاں اور لڑکے آپس میں مذاق کے طور پر ایجاب و قبول کرتے ہیں تو اگر شرائط کے ساتھ ان کا نکاح ہو جاتا ہے اور ان کی کہیں اور شادی بھی  ہو جاتی ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  کسی لڑکی اور لڑکے نے بطور مذاق شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب و قبول کیا،اور لڑکی کسی کی منکوحہ یا معتدہ بھی نہ ہو تو یہ نکاح منعقد ہو جاتا ہے، اس کے بعد اس لڑکی کے دوسری جگہ نکاح کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہو گا ،اور عورت بدستور اسی پہلے شوہر کے نکاح میں رہے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر لڑکااور غیر شدہ  لڑکی بطور مذاق نکاح کریں، جبکہ دو عاقل بالغ  مرد،یا ایک مرد اور دو عورتیں  گواہ موجود ہوں تو یہ نکاح منعقد ہو جائے گا،لہذا لڑکی کے لیے اس  شوہر  سے طلاق یا خلع لینے سے پہلے کسی دوسری جگہ نکاح  کرنا حرام ہے ، اور وہ پہلے شوہر کی منکوحہ رہے گی۔

 

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌ثلاث ‌جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة "۔(سنن ابن ماجه،كتاب الطلاق،ج:1ص:658)

وكذلك ‌الجد ‌ليس ‌من ‌شرائط ‌جواز النكاح حتى يجوز نكاح الهازل؛ لأن الشرع جعل الجد، والهزل في باب النكاح سواء قال النبي: صلى الله عليه وسلم «ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد الطلاق والعتاق والنكاح»۔(بدائع الصنائع،كتاب النكاح،ج:2ص:310)

ونكاح المنكوحة ‌لا ‌يحله ‌أحد من أهل الأديان۔(كتاب المبسوط،كتاب السير،ج:10ص:96)


فتویٰ نمبر : 6950/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں