بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

انویسٹر اور ڈیلر کے درمیان براہ راست معاملہ طے ہونے کی صورت میں ایجنٹ کا کمیشن کا مطالبہ کرنا


سوال

میں خود ایک کمیشن ایجنٹ ہوں ،میرے ایک دوست نے مجھے ایک انویسٹر سے ملوایا پھر اس سے کوئی معاملہ طے نا ہو سکا ۔ اس انویسٹر نے 6 ماہ بعد مجھ سے ڈائریکٹ رابطہ کیا اور میں اس وقت کپڑوں کا کام کر رہا تھا اس نے انویسٹمنٹ کی خواہش ظاہر کی اور میرے پاس میرے شہر آیا،ہماری ڈیل بنی اورکام شروع ہو گیا اب جس دوست نے مجھے ملوایاتھا، تین ماہ بعد اسے پتہ چلا تو وہ میرے شریک سے اپنا کمیشن مانگنے لگا کہ اس بندےکو 6 ماہ پہلے میں نے ملوایا تھا ۔اُس وقت بیشک آپ لوگوں کے درمیان کوئی معاملہ طے نہیں ہوا لیکن اب ڈائریکٹ معاملہ طے  کرکے مجھے کمیشن کیسے نہیں دے رہےہو، آیا اس کا کمیشن مانگنا جائز ہے؟

جواب

 کسی چیز کی خرید و فروخت کےلیےبائع اور مشتری کے درمیان  جوواسطہ کا کام  کرتا ہے اسے شریعت کی اصطلاح میں دلال کہتے  ہیں۔ ضرورت اور کثرت تعامل کی وجہ سے فقہائے کرام نے دلال کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر سائل اور انویسٹر کے درمیان طے ہونے والے معاملے  میں ایجنٹ کا براہ راست کوئی عمل دخل نہیں تھا،تو اس کےلیے کمیشن کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔

 

قوله: (والسمسار) بكسر السين الأولى المهملة وهو المتوسط بين البائع والمشتري ليبيع بأجر من غير أن يستأجر، والدلال الواسطة بين المتبايعين. وفي ملا مسكين: السمسار ‌الدلال.(تكلملة حاشية ابن عابدين، كتاب المضارب، باب المضارب، ج:4، ص:445)

لايجوز لأحد  أن ياخذ  مال أحد  بلا سبب شرعي"( شرح المجلة، مادۃ: 97،ج:1،:264)


فتویٰ نمبر : 3585/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں