بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

دکان میں پارٹنر شپ ختم کرنا


سوال

اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ دکان  میں شریک ہو اور بعد میں وہ پارٹنر شپ ختم کرنا چاہیں توشرکت کوکس حساب سے ختم کریں گے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر دو شریک شرکت کو ختم کرنا چاہیں تو موجود مال کی مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے قیمت  لگائی جائے گی، پھر نقدی اور موجودہ مال کی قیمت کو ملا کر ہر ایک شریک نے جتنا سرمایہ لگایا ہو پہلے وہ لےلیا جائے اور جو باقی رہ جائے وہ نفع شمار ہوگا، لہذا اس کو حسب معاہدہ آپس میں تقسیم کریں گے، نیز حساب لگانے کے بعد ایک شریک دوسرے شریک کا حصہ طرفین کی رضامندی سے مناسب قیمت پر خرید بھی سکتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر دو شریک دکان  میں شراکت داری کو ختم کرنا چاہیں تو دکان میں موجود مال کی مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے قیمت لگائی جائے گی، پھر نقدی اور موجودہ مال کی قیمت کو ملا کر ہر ایک  شریک نے جتنا سرمایہ  لگایا ہو  پہلے وہ  لےلیا جائےاورجو باقی رہ جائے  وہ نفع شمار ہوگا، لہذا اس کو حسب معاہدہ آپس میں تقسیم کریں گے، نیز حساب لگانے کے بعد ایک شریک  دوسرے شریک کا حصہ طرفین کی رضامندی سے مناسب قیمت پر خرید بھی سکتا ہے۔

 

وشركة عقد وهي أن يقول أحدهما شاركتك في كذا ويقول الآخر قبلت، هكذا في كنز الدقائق... وحكم شركة العقد صيرورة المعقود عليه وما يستفاد به مشتركا بينهما، كذا في محيط السرخسي. ‌ أما ‌الشركة ‌بالمال فهي أن يشترك اثنان في رأس مال فيقولا اشتركنا فيه على أن نشتري ونبيع معا أو شتى أو أطلقا على أن ما رزق الله عز وجل من ربح فهو بيننا على شرط كذا أو يقول أحدهما ذلك ويقول الآخر نعم، كذا في البدائع.(الفتاوى الهندية، كتاب الشركة،ج:3 ، ص:302 )


فتویٰ نمبر : 3563/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں