بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دورانِ صلاۃ وتر نیت تبدیل کرکے دو رکعت پر سلام پھیرنا


سوال

وتر کی نماز سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنے کی میری عادت تھی۔ایک دن نفل بھول کرمیں نے  وتر کی نیت سے نماز شروع کردی،درمیان میں یاد آنے پر میں نے نیت تبدیل کرکے دو رکعت کے بعد سلام پھیر دی۔پھربعدمیں وتر کی نماز ادا کر لی۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں:1۔ کیا ایسا کرلینے سے دو رکعت نفل کی ادائیگی  درست ہوگی یا نہیں؟2۔کیا وتر کی نماز ایک بار پڑھنا ضروری ہوگا،یا "لزم النفل بالشروع "کی رو سے دو مرتبہ؟

جواب

واضح رہے کہ  نماز کے دوران محض  نیت تبدیل  کرلینے سے نیت تبدیل نہیں ہوگی۔ تاہم  اگر نیت تبدیل کرکے تکبیر تحریمہ پڑھ لی جائے تو اس سے پہلی نیت باطل ہوجائے گی، اور دوسری نیت کےمطابق نماز شروع ہوجائےگی، البتہ اگرپہلی نیت سنت يا نفل کی ہو،  تو پورا نہ کرنے کی وجہ سے قضا لازم ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص وتر کی نیت سے نماز شروع کرلے اوردرمیان میں نیت تبدیل کرکے نفل کی نیت کرلے پھر تکبیر تحریمہ   پڑھے، تو وتر کی نیت باطل ہوگی اورنفل نماز شروع ہوگی، چنانچہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دینے سے نفل کی ادائیگی درست ہوگی۔ البتہ اگر درمیان میں نیت تبدیل کرلے لیکن تکبیر تحریمہ نہ  پڑھے، تو پہلی نیت باطل نہیں ہوگی، لیکن دو رکعت پر سلام پھیر نے کی وجہ سے وتر کی نماز باطل ہوگی، اوراس کا ازسر نواعادہ ضروری ہوگا، جبکہ یہ دو رکعتیں نفل شمار ہوں گی۔ نیز ان دونوں صورتوں میں وتر کی قضا لازم نہ ہوگی، چنانچہ ایک مرتبہ وتر پڑھ لینے سے واجب ادا  ہوجائے گی۔

 

(قوله ولا تبطل بنية القطع) وكذا بنية الانتقال إلى غيرها(قوله ما لم يكبر بنية مغايرة) بأن يكبر ناويا النفل بعد شروع الفرض وعكسه، أو الفائتة بعد الوقتية وعكسه، أو الاقتداء بعد الانفراد وعكسه.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، ج:1، ص:444)

ولو افتتح الظهر ‌ثم ‌نوى ‌التطوع أو العصر أو الفائتة أو الجنازة وكبر يخرج عن الأول ويشرع في الثاني والنية بدون التكبير ليس بمخرج. كذا في التتارخانية ناقلا عن العتابية.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، ج:1، ص:66)

قوله ولزم ‌نفل إلخ) أي لزم المضي فيه، حتى إذا أفسده لزم قضاؤه أي قضاء ركعتين، وإن نوى أكثر على ما يأتي.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، ج:2، ص:29)

(قوله مطلقا) أي سواء قيد الأولى بسجدة أو لا (قوله خلافا لما رجحه الكمال) حيث قال: وقيل يقطع على رأس الركعتين، وهو الراجح لأنه يتمكن من قضائه بعد الفرض. ولا إبطال في التسليم على الركعتين، فلا يفوت فرض الاستماع والأداء على الوجه الأكمل بلا سبب.(ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، ج:2، ص:53)


فتویٰ نمبر : 10076/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں