بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

"اشراق" اور "محمد عیسی زاہد" ناموں کے معانی اور وجہ ترجیح


سوال

 ایک لڑکے کا نام اشراق رکھا گیا ہے، اب اس کی خواہش ہے کہ میرا نام  تبدیل ہوکر محمد عیسی زاہد ہوجائے، برائے کرم دونوں اسما کے معانی  بیان فرماکر بہتر اور بابرکت نام کی تعیین وترجیح کریں؟

جواب

واضح رہے کہ "اشراق" عربی زبان میں مصدر ہے جس کے معنی ہیں روشن ہونا، چمکنا،صبح کے وقت میں داخل ہونا، اور اگر یہ لڑکے کا نام رکھا جائے تو اسم فاعل کے معنی میں ہوکر اس کا معنی "روشن کرنے والا، چمکدار" ہوگا۔

اور لفظ عیسی کی اصل "اليشوع" يا "يشوع" ہے جوعبرانی زبان کا لفظ ہے اور اس کے کئی معانی بیان کی گئی ہیں، یعنی سردار، ایسی سفیدی جس کے اوپر لالی ہو، وغیرہ۔ نیز یہ اللہ تعالی کے ایک جلیل القدر پیغمبر کا نام ہے ۔ اور "محمد" اللہ تعالی کے آخری نبی علیہ السلام کا نام ہے۔

اور لفظ "زاہد" کا معنی ہے: عبادت گزار، تارک الدنیا،  خدا رسیدہ، دنیا میں رغبت نہ رکھنے والا، متقی، اور پرہیزگار ہے ۔

لہذا معنی کے لحاظ سے دونوں نام رکھنا درست ہے البتہ "محمد عیسی زاہد" نام رکھنا زیادہ بہتر ہے۔

 

الاشراق: طلوع آفتاب، نورمعرفت جو غیر عالم محسوس سے کسی کے ذہن میں  پیدا ہو۔ (القاموس الوحید، باب الشین،ص:859)

‌يقال: ‌شرقت ‌الشمس ‌إذا ‌طلعت، ‌وأشرقت إذا أضاءت....‌وأشرق ‌وجهه ‌ولونه: أسفر وأضاء وتلألأ حسنا۔ (لسان العرب، باب الشین، ج:7، ص:95)

عِيسَى ‌لفظ ‌عبرانى ‌قيل هو معرّب اليشوع بمعنى السيد۔ ( التفسير المظهري، سورة آل عمران:45)

‌عيسى: ‌هو ‌عبد ‌الله ‌ورسوله، وكلمته ألقاها إلى مريم، وروح منه، وهو آخر أنبياء بني إسرائيل، ذكر اسمه في القرآن بلفظ المسيح وهو لقب له، وبلفظ عيسى وهو اسمه، وهو بالعبرية «يشوع» أي المخلّص، أي يخلص النصارى-في زعمهم-من الخطيئة، وذكر بلفظ ابن مريم۔ (التفسير المنير،أضواء على قصة عيسى، سورة المريم، ص:89)

يا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ‌المسيح ‌لقبه ‌وهو ‌من ‌الألقاب ‌المشرفة كالصديق وأصله بالعبرية مشيحا معناه: المبارك، وعيسى معرب ايشوع واشتقاقهما من المسح لأنه مسح بالبركة أو بما طهره من الذنوب، أو مسح الأرض ولم يقم في موضع، أو مسحه جبريل، ومن العيس وهو بياض يعلوه حمرة، تكلف لا طائل تحته۔ (تفسير البيضاوي، سورة آل عمران:48)

الزاهد: عبادت گزار،تارک الدنیا، خدارسیدہ۔ (القاموس الوحید،  باب الزاء، ص:721)

زاہد: دنیا سے رغبت نہ رکھنے والا، متقی، پرہیزگار۔ (فیروز الغات، ص:781)


فتویٰ نمبر : 5873/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں