بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

وقوع طلاق کے لیے عورت کا الفاظ طلاق سننا


سوال

اگرزوجین میں تنازع اور اختلاف ہونے کے بعد دونوں  کے  درمیان جھگڑا ہوجائے اور شوہر  غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کی غیر موجودگی میں اسے زبانی طور پر تین طلاقیں دے لیکن  بیوی نے طلاق کے الفاظ  نہ سنے ہوں، تو کیا اس سے  طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

شریعت نے طلاق کا اختیار شوہر کو دیا ہے اور طلاق واقع ہونے کے لیے عورت  کا موجود ہونا یا  طلاق کے الفاظ  کو سننا ضروری نہیں، بلکہ  شوہر کے کہنے  سے ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

 صورت مسئولہ کے مطابق  اگر شوہر بیوی کی غیر موجودگی میں اسے تین طلاقیں دے تو اس سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، چاہے  طلاق کے الفاظ بیوی نے سنے ہو یا نہیں ۔

 

قال اللہ تعالیٰ : فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ۔ (البقرۃ:230)

‌وقال ايضاّ : الَّذِي بِيَدِهِ عُقۡدَةُ النِّكَاحِۚ۔ (البقرة:237) والذي بيده عقدة النكاح عندنا هو الزوج وهو قول ابن عباس وشريح....وظاهر الآية يدل على ذلك لأن الذي بيده عقدة النكاح من يتصرف بعقد النكاح. (المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، ج:6،ص:63)


فتویٰ نمبر : 6949/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں