بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
بیماری کی وجہ سے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا
سوال
عرض ہے کہ میں جوڑوں کی بیماری میں مبتلا ہوں جس کی وجہ سے نہ میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا ہو ں اور نہ ہی زمین پر بیٹھ کر، مجبوراً میں کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہوں لیکن میرے دل میں غیر اطمینان والی کیفیت ہو تی ہے ۔ کیا میرے لیے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے؟
جواب
نماز کے ارکان میں سے سجدہ ایک اہم رکن ہے کیونکہ اس میں نماز کا مقصد یعنی خشوع،خضوع بدرجہ اتم پا یا جا تا ہے۔البتہ جو شخص سجدہ ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اس کے لیے رکوع اور سجدہ اشارے سے ادا کرنے کی گنجائش ہے اور اس کو اس بات کا بھی اختیار ہے کہ اگر چاہے تو کھڑے ہو کر اشارے سے رکوع اور سجدہ کرے یا زمین پر بیٹھ کر،لیکن زمین پر بیٹھ کر اشارے سے ادا کرنا زیادہ بہتر ہے،کیونکہ بیٹھنے کی حالت سجدہ کے زیادہ قریب ہے،تا ہم اگر زمین پربیٹھنا بھی باعث مشقت ہو تو کرسی پر بیٹھ کر بھی اشارے سے نماز پڑھ سکتاہے۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگرسائل کو کھڑے ہو کر یا زمین پر بیٹھ کرنما زپڑھنے میں تکلیف ہوتو اس کے لیے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی شرعاً گنجائش ہے ،اور کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے معذور شخص کا فریضہ ادا ہو جا تا ہے،لیکن اس کو پریشان نہیں ہونا چاہئے۔
"إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع، ويسجد"۔(الفتاوی الهندية، کتاب الصلاة، الباب الربع عشر فی صلاةالمريض،ج: 1، ص: 196)
"لو عجز عن الركوع، والسجود، وقدر على القيام، فالمستحب أن يصلي قاعدا بإيماء، وإن صلى قائما بإيماء جاز عندنا"۔ (الفتاوی الهندية، کتاب الصلاة، الباب الربع عشر فی صلاةالمريض،ج: 1،ص: 196)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں