بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

سکریپ بطور قرض لینا


سوال

میرا ایک بھائی ہے جوسکریپ کا  کاروبار کرتا ہے، وہ جب سکریپ بیچتا ہے تو گاڑی لگا لیتا ہے ۔گاڑی میں جگہ باقی رہتی ہےتو وہ دوسرے دکاندار سے سکریپ بطور قرض لیتا ہے اور اپنی گاڑی کو پورا کرلیتا ہے، بعد میں اس کا سکریپ  یا پیسے دیتا ہےاس کا کیا حکم ہے کیا یہ سود ہے یا نہیں؟اگر سود نہیں تو اس کی وجہ بھی بیان کریں ۔

جواب

شرعی نقطۂ نظر سےمکیلات و موزونات میں قرض کا معاملہ درست ہےاور  قرض  واپس کرتے وقت اتنی مقدار  میں دینالازم ہےجتنا لیا تھا۔ تاہم اگر قرض لیتے وقت کمی بیشی کی شرط نہیں لگائی گئی ہوتو ادائیگی میں اضافہ جائز ہے۔اور اگر کمی بیشی کی شرط لگائی گئی ہوتو پھر یہ معاملہ سود کے زمرے میں شامل ہو کرناجائز رہے گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  اگر کسی سے اسکریپ بطور قرض لیا ہو تو واپسی کے وقت اتنی مقدار میں واپس کرناہے جتنا لیا تھا اوراگر کمی بیشی کی شرط لگائی جائے تو یہ سود   ہوگا ۔اور اگر اسکریپ کے بدلے پیسے دینا طےہو تو سکریپ اٹھاتے وقت  اس کی مقدار اور قیمت کا معلوم ہونا اور رقم ادا کرنے کی مدت  متعین کرنا ضروری ہے۔

 

"ويجوز القرض فيما هو من ذوات الأمثال كالمكيل والموزون، والعددي المتقارب كالبيض، ولا يجوز فيما ليس من ذوات الأمثال كالحيوان والثياب، والعدديات المتفاوتة."(الفتاوى الهندية، کتاب البيوع، الباب التاسع عشر فی القرض و الاستقراض، ج: 3،ص:202،201)

استقراض العجين وزنا يجوز وينبغي جوازه في الخميرة بلا وزن.( رد المحتار على الدر المختار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، مطلب كل قرض جر نفعا حرام: 5/167)

يجوزاستقراض الجوز كيلا وكذا استقراض الباذنجان عددا هكذا في المحيط، قال محمد في كتاب الصرف: إن أبا حنيفةكان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به.( الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب التاسع عشر في القرض والاستقراض والاستصناع: 3/233)

(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، ج:5، ص:156)

"(قوله ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل) لإطلاق قوله تعالى:{وأحل الله البيع} [البقرة: 275] وعنه عليه الصلاة والسلام «أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه» . ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن الجهالة فيه مانعة من التسليم الواجب بالعقد، فهذا يطالبه به في قريب المدة، وهذا يسلمه في بعيدها." (فتح القدير، كتاب البيوع، ج:6، ص:261)


فتویٰ نمبر : 3562/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں