بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی تیسری منزل کو مدرسہ بنات بنانا


سوال

ایک مسجد ہے جو تین منزلہ ہے اس میں پہلی اوردوسری منزل نماز کے لیے مختص ہے جبکہ تیسری منزل میں بنات کا مدرسہ ہے اور اس منزل کا راستہ مردوں کے راستے سے الگ ہے اور پردے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے تو  کیااس طرح  مسجد کے اوپر مدرسے کا قیام جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ  جو جگہ مسجد کے لیے وقف کر دی جائے ، تو اس کا استعمال اسی مسجد کے  مقاصد تک محدود رہے گا ۔کیونکہ کوئی جگہ جب مسجد شرعی بن جاتی ہے تو وہ تحت الثری سے لے  کر آسمان تک مسجد کے حکم میں شمار ہوتی ہے ۔ چنانچہ بعد میں مسجد  کی کسی بھی منزل کو اس طرح مستقل مدرسہ بنانا  جائز نہیں  کہ اس میں نماز باجماعت مستقل ترک  ہو  جائے  ، تاہم اگر درس وتدریس مسجد کے آداب کا  لحاظ رکھ کر کیا جائے  اور نماز کے وقت جماعت  بھی ادا کی جائے  تو اس کی  گنجائش ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق مسجد کی  تیسری منزل   پر بنات کے مدرسہ  کا قیام  دو وجہ سے جائز نہیں ۔ ایک تو اس میں جماعت ترک ہو جائے گی ، دوسرا بالغ لڑکیوں کے لیے حیض ونفاس کے ایام میں مسجد کے حدود میں رہنا ہو گا جو کہ  جائز نہیں ۔

 

البقعة ‌الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز.( الفتاوى الهندية، كتاب الوقف،الباب الثاني فيمايجوز وقفه، ج:٢،ص:٣٦٢)

‌أما ‌للتذكير أو للتدريس فلا لأنه ما بني له وإن جاز فيه...ويجوز الدرس في المسجد وإن كان فيه استعمال اللبود والبواري المسبلة لأجل المسجد.(البحر الرائق، شروط الواقفين،فصل كان إلى المسجد مدخل من دار موقوفة، ج:٥،ص:٢٧٠)

(ومنها) أنه يحرم عليهما وعلى الجنب الدخول في المسجد ‌سواء ‌كان ‌للجلوس أو للعبور.( الفتاوى الهندية،كتاب الطهارة،الفصل الرابع في أحكام الحيض و النفاس و الاستحاضة،ج:١،ص:٣٨)


فتویٰ نمبر : 5870/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں