بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بينک سے بغير كسى اضافى چارجز كے قرض لينا


سوال

ایک بندہ دبئی میں بینک کے ذریعے تنخواہ لے رہا ہے اب بینک نے ان کو آفر کیا ہے کہ آپ ہم سے قرض لےلےہم آپ  سے صرف 100 درہم اضافی پروسیسنگ فیس لیں گے باقی جتنا قرض آپ نے لیا ہوگا وہی واپس کریں گے ہم آپ سے صرف شروع میں  100  درہم فیس لیں  گے اس کے علاوہ  مزید  کسی بھی قسط پر اضافی رقم نہیں لیں گے ، البتہ بینک والے قسطوں کےلیے ایک مدت  مقرر کرتے ہیں کہ اسی مدت میں وہ  قسطوں کو پورا کریں گے ورنہ تم سے جرمانہ لیا جائے گا کیا یہ سودی  معاملہ ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کوقرض پر پیسے دے کر قرضدار سےکسی اضافی چیز لینے کا مطالبہ نہ کرے تو یہ قرض حسنہ شمار ہوگا، اور قرض  دینے والا شخص مستحق اجر وثواب ہوگا، لیکن اگر قرض خواہ  قرض کی ادائیگی کےلیے کچھ مدت مقرر کرکے قرض دار سے کہے کہ اس مدت میں قسطوں کو پورا کروگےورنہ تم سے مالی جرمانہ لیا جائے گا تو یہ اضافی رقم سود کے حکم میں  داخل ہے۔

 صورت مسئولہ میں بیان کردہ  تفصیل کے مطابق اگر بینک سے قرض لیا جائے اور پھر قسطوں کو وقت میں ادا کیا جائےتو اگرچہ سود کا گناہ نہ ہوگا، البتہ چونکہ قرض لیتے وقت یہ معاہدہ کرچکا تھا کہ تاخیر کی صورت میں اضافی رقم دوں گا، اس لیے  یہ سودی معاہدہ  کرنے کا گناہ بہرحال ہوگا۔چنانچہ قرض لینے کی کوئی واقعی ضرورت نہ ہو تو خواہ مخواہ قرض لے کر اس گناہ میں مبتلا نہ ہو۔

 

القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة. (الدر المختار، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض،ج: 7، ص: 388)

وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه.وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام.

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض. ( رد المحتار على الدرالمختار،  باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج: 7، ص: 395)


فتویٰ نمبر : 3558/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں