بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کسی نے غیر کی زمین پر عمارت بنائی ہو اور بعد میں پلاٹ کا مالک اس پلاٹ کو وقف کرے


سوال

اگرکسی کے پلاٹ پر کوئی عمارت بنا لے اور پلاٹ کا مالک  بعد میں اس پلاٹ کو وقف کرے تو اس عمارت کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

اگر کوئی شخص غیر کی زمین پر  مالک کی اجازت سے مالک زمین  کےلیے گھر بنالے یا  مالک کی اجازت کے بغیر اس  کےلیے گھر بنا لےتو عمارت مالک کی ہوگی اور اجازت کی صورت میں عمارت پر جتنا خرچہ ہوا ہو وہ مالک ادا کرےگا، اور اگر مالک زمین کی اجازت سے يا اس كی اجازت كے بغیر اپنے لیے گھر بنایا ہو تو عمارت بنانے والے کی ہوگی اور  زمین کا مالک جب بھی زمین فارغ کرنے کا مطالبہ کرے تو وہ عمارت کو ہٹائے گا یا زمین کا مالک  اگراس عمارت کی قیمت ادا کرنا چاہے تو ملبے کی قیمت دےگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر عمارت بنانے والے نے  پلاٹ کے مالک کےلیے اس کی اجازت پر یا اس کی اجازت کے بغیرعمارت بنائی ہوتو دونوں صورتوں میں پلاٹ کا مالک اس عمارت کا مالک ہوگا، لیکن اجازت کی صورت میں عمارت پر جتنا خرچہ ہوا ہو وہ مالک ادا کرےگا۔ان دونوں صورتوں میں  پلاٹ کا مالک اگر اس پلاٹ کو وقف کرے تو پلاٹ اور عمارت دونوں وقف شمار ہوں گے ، لیکن اگر  مالک کی اجازت سے یا اس کی اجازت کے بغیر  اپنے لیے گھر بنایا ہو  تو اجازت نہ ہونے کی صورت میں عمارت بنانے والا غاصب شمار ہوگا او ر عمارت دونوں صورتوں میں بنانے والے کی ہوگی۔ اگر اس صورت میں   پلاٹ کا  مالک اس پلاٹ کو وقف کرے تو  پلاٹ کا مالک  عمارت کے مالک سے پلاٹ  خالی کرانے کا مطالبہ کرے گا کہ پلاٹ کو گرا دے یا  اگر پلاٹ کا مالک اس عمارت  کی قیمت  ادا کرے گاتو اس کے ملبے کی قیمت ادا کرے گا اور  دونوں صورتوں میں وقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گااور قیمت کی ادائیگی کی صورت میں پلاٹ اور عمارت دونوں وقف شمار ہوں گے۔

 

إذا استعار من آخر أرضا ليبني فيها أو يغرس فيها ثم بدا للمالك أن يخرجه فله ذلك، سواء كانت العارية مطلقة أو موقتة غير أنها إن كانت مطلقة له أن يجبر المستعير على قلع الغرس ونقض البناء، وإذا قلع ونقض لا يضمن المعير شيئا من قيمة الغرس والبناء، كذا في البدائع. فإن كانت الأرض بحال تنقص بذلك إن رضي المعير بالنقص قلعهما، وإن طلب المستعير أن يضمن المعير قيمة البناء والغرس مقلوعا فإنه لا يجبر على ذلك ويكلفه القلع، وإن لم يرض أن يسترد الأرض ناقصة ضمن له قيمة البناء والغرس مقلوعا غير ثابت ولا يلتفت إلى قول المستعير، كذا في المضمرات. (الفتاوى الهنديه، كتاب العارية، الباب السابع في استرداد العارية،ج:  4، ص: 391)

(عمر ‌دار ‌زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له ولو اختلفا في الإذن وعدمه، ولا بينة فالقول لمنكره بيمينه، وفي أن العمارة لها أو له فالقول له لأنه هو المتملك كما أفاده شيخنا

ــ(قوله ‌عمر ‌دار ‌زوجته إلخ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين، وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له، وله رفعه إلا أن يضر بالبناء، فيمنع ولو بنى لرب الأرض، بلا أمره ينبغي أن يكون متبرعا كما مر اهـ وفيه بنى المتولي في عرصة الوقف إن من مال الوقف فللوقف، وكذا لو من مال نفسه، لكن للوقف ولو لنفسه من ماله، فإن أشهد فله وإلا فللوقف بخلاف أجنبي بنى في ملك غيره (قوله والنفقة دين عليها) لأنه غير مقطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها، فصار كالمأمور بقضاء الدين زيلعي، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع وفي المسألة اختلاف وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين (قوله فالعمارة له) هذا لو الآلة كلها له فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما ط عن المقدسي (قوله بلا إذنها) فلو بإذنها تكون عارية ط (قوله فيؤمر بالتفريغ) ظاهره ولو كانت قيمة البناء أكثر من قيمة الأرض، وبه أفتى المولى أبو السعود مفتي الروم وهو خلاف ما مشى عليه الشارح في كتاب الغصب من أنه يضمن صاحب الأكثر قيمة الأقل، وقدمنا الكلام عليه هناك فراجعه (قوله بطلبها) الأوضح قول الزيلعي إن طلبت (قوله ولها) معطوف على نفسه أي ولو عمر لها إلخ. ( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الخنثى، مسائل شتی،  ج: 10، ص:475)


فتویٰ نمبر : 5865/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں