بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دھوکہ کرنے والے شخص کے ساتھ بطور ڈرائیور کام کرنا


سوال

سعودی عرب میں ایک کفیل ہے جو ایک جگہ دوسری جگہ تیل بھیجتا ہے، اس کےلیے اس نے مختلف ڈرائیور رکھے ہیں ، لیکن وہ کفیل دھوکہ کرتا ہے جب 15 ہزار  لیٹر تیل بھیجتا ہے تو اس خریدنے والے کو کہتا ہے کہ میں نے آپ کو 17 ہزار لیٹر فراہم کیا ۔ اور اس سے 17 زہزار  لیٹر  کے تیل کےروپے وصول کرلیتا ہے۔اب یہاں پشاور میں  ایک شخص ہے جسے وہاں کا ویزہ مل رہا ہےاور وہ اس کفیل کے ساتھ بطور ڈرائیور کام کرے گا ۔وہ پوچھ رہا ہے کہ میں تو اپنی ڈیوٹی پوری کروں گا آیا  میرے لیے یہ ملازمت جائز ہے خواہ مجھے جھوٹ بولنا  پڑے یا نہ پڑے، دونوں صورتوں کا جواب مطلوب ہے؟

جواب

واضح رہے اگر  کوئی شخص اجرت پر کام کرتا ہو اور بذات خود اس کام میں کوئی گناہ نہ ہو، تو اس کےلیے اجرت  لیناجائز ہے، لیکن اگر  اس کام کی وجہ سے کسی اور گناہ کا مرتکب بنتا ہوتو گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے گناہگار ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص کفیل کے ساتھ بطور ڈرائیور   کام کرتا ہو تو اس کےلیے اس  ملازمت کی تنخواہ لینا جائز ہے، لیکن اگر وہ کفیل کےلیے جھوٹ بولے  گا تو اس پر  جھوٹ كا گناہ ہوگا اور وہ کفیل کے ساتھ  اس گناہ میں معاون بھی  شمار ہوگا جس کی وجہ سے وہ بھی کفیل کی طرح  ناحق مال کمانے کے گناہ  کا مرتکب شمار ہوگا، لہذا ایسی جگہ جہاں پر جھوٹ اور دھوکہ کے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہو تو ایسی جگہ میں ملازمت کرنے سے احتراز کرنا لازم ہے۔

 

قال اللّٰه تعالى: وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ (المَائـِدَة:2)

قال: "‌والأجير ‌الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم" وإنما سمي أجير وحد؛ لأنه لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له والأجر مقابل بالمنافع، ولهذا يبقى الأجر مستحقا، وإن نقض العمل. ( الهداية، كتاب الإجارة، باب ضمان اللأجير، ج:3، ص:243)

ولواٰجر نفسه ليحمل له الخمر يكره؛ لأن التصرف في الخمر حرام قال: هكذا أطلق لكن هذا قولهما، أما على قول أبي حنيفة: لايكره، وكذا في كل موضع تعلق المعصية بفعل فاعل مختار.(خلاصة الفتاوى،كتاب الإجارة،الفصل العاشر: في الحضر والإباحة، ج:3،ص:149)


فتویٰ نمبر : 3554/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں