بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

تنگ دست اولاد پر باپ کا نفقہ


سوال

ہم چار بھائی ہیں ہمارے حالات مہنگائی کی وجہ سے تنگ دست ہیں،تو کیا ہم پر باپ کا نفقہ لازم ہوگا یا نہیں؟

جواب

اگر والدین مالدار ہوں، تو ان کا نان و نفقہ ادا کرنا اولاد کے ذمے ضروری نہیں ، اگر چہ اولاد مالدار کیوں نہ ہو، البتہ اگر والدین کے پاس اپنا مال نہ ہو اور ان کے نان و نفقہ کے لئے کوئی انتظام  نہ ہو، تو اس صورت میں والدین کا نفقہ بالغ مالدار اولاد پر واجب ہوگا اور اگر اولاد بھی تنگ دست ہو تو ان پر والدین کو خرچے کے لیے نقد رقم دینا واجب نہیں ،تاہم والدین کو اپنے ساتھ رہائش اور کھانے وغیرہ میں شریک رکھیں گے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق غریب اولاد پر مستقل کوئی متعین رقم باپ کو بطور نفقہ دینا شرعا لازم نہیں ،تاہم باپ کو اپنے ساتھ رہائش، کھانے، پینے میں شریک رکھیں گے۔

 

"(ولابویہ واجدادہ وجداتہٖ لوفقراء) ای تجب النفقۃ لِھٰؤلاء……واطلق فی الابن ولم یقید فی الغنی مع انہٗ مقید بہ لما فی شرح الطحاوی ولایجبر الابن علٰی نفقۃ أبويه المعسرین اذاکان معسراً إلا إذا كان بهما زمانة أو بهما فقر فقط فإنهما يدخلان مع الابن ويأكلان معه ولا يفرض لهما نفقة على حدة"۔(البحر الرائق:كتاب الطلاق،باب النفقة،تحت قوله(ولأبويه وأجداده)، ج:4،ص:349)

"وعلی الرجل المرسر أن ینفق علی أبویہ وأجدادہ وجداتہ إذا کانوا فقراء وإن خالفوہ فی الدین"۔(الھدایۃ:کتاب النکاح،باب النفقۃ،  ج:2،ص:440)


فتویٰ نمبر : 6945/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں