بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/08/2026 |
قفیزالطحان کی جنس کے معاملات میں عرف کی وجہ سے جواز کا قول
سوال
آج کل عموماًتھریشر مشین کے ذریعےجب گندم کو صاف کیا جاتا ہے تو مشین والےاپنی اجرت اس گندم میں سے لیتے ہیں جس میں انہوں نےتھریشر کیا ہو،چونکہ یہ صورت قفیزالطحان میں داخل ہے،لہذا یہ عقد درست نہیں اور یہی جمہور کی رائے ہے۔البتہ مشائخ بلخ کے نزدیک عرف اور تعامل کی وجہ سے یہ صورت جائز ہونی چاہیے،اور یہی شمس الائمہ حلوانی ؒاور ابو علی نسفی ؒکی رائے ہے(کما فی الفتح ج:9،ص:110)۔اور فقیہ ابواللیث سمرقندیؒ نے بھی "الفتاویٰ ج:2،ص:389"میں مشائخ بلخ کے قول کو لیا ہے۔لیکن مشائخ بلخ کے اس قول پر کچھ علمی اشکالات ہیں:1:یہ عرف خاص ہے جو کہ نص کے لئے مخصّص نہیں بن سکتا۔لیکن اگر دیکھا جائےتو شاید ہی کوئی علاقہ ہوجس میں اس طرح عقد اجارہ نہ ہورہا ہو،بلکہ معلومات اور مشاہدہ کے مطابق اکثر علاقوں میں اس طرح عقد اجارہ کیا جاتا ہے،لہذا بظاہر اب اس کو عرف خاص کہنا قدرے مشکل بلکہ ناممکن ہے۔2:قفیزالطحان والی حدیث میں صراحت ہےاور دیگر صورتوں میں دلالت اور جو حکم دلالۃًثابت ہواس میں عرف کی وجہ سے تخصیص نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ جب وہ معنیٰ(تعلیل)جس کی وجہ سےدیگر اشیاءمیں حکم نص کو متعین کیا جائےوہ قطعی اور یقینی ہو(یعنی قطعی الدلالہ ہو)جبکہ قفیزالطحان والے حدیث میں احناف کا ذکر کردہ معنیٰ قطعی نہیں،کیونکہ فقہائے مالکیہ اور حنابلہ نےاس حدیث میں دوسرا معنیٰ ذکر کیا ہے،لہذا حدیث احناف کے ذکر کردہ معنیٰ میں قطعی نہیں رہا(کما فی اصول الافتاء وآدابہ)۔ 3: اگر ہم اس طرح ہر عرف کو معتبر مان لے تو پھر نص کا مدلول ہی باقی نہیں رہے گا۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں کہ ہم ہر عرف کو معتبر مان کر حکم نص کو بالکل ترک کریں گے ،بلکہ حدیث مبارکہ میں جس بارے صراحت ہواگر اس میں عرف عام بھی ہوتب بھی حکم نص پر عمل کیا جائے گا،البتہ جن صورتوں میں حدیث مبارکہ میں دلالت ہواس میں عرف عام کا اعتبار کرتے ہوئےمشائخ بلخ کےقول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔لیکن یہ بات بہر صورت واضح ہو کہ عرف عام کو معتبر مان کرنص میں تخصیص کرنا ایک ماہر حاذق فقیہ کاکام ہے۔ تو کیا اس عرف کو معتبر مان کرمشائخ بلخ کے قول پر فتویٰ دینے اور اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے کہ نہیں؟ نوٹ:مسئلہ مذکورہ میں تصحیح عقد کی جو صورتیں کتب فقہ میں مذکورہیں تو انعقاد عقد کے وقت ایجاب وقبول میں عموماًان کا خیال نہیں رکھا جاتا۔
جواب
اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے چند باتوں کو بطور تمہید پیش کیا جاتا ہے:
1:اگر عرف نص کے ساتھ معارض ہوجائے اس طور پر کہ اس سے من کل الوجوہ نص کا ترک لازم آتا ہو تو اس صورت میں عرف کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا جیسا کہ سود اور شرب خمر وغیرہ میں۔
2:اگر عرف نص کے ساتھ معارض ہوجائے لیکن من کل الوجوہ نص کے مخالف نہ ہو بلکہ بعض افراد میں نص کے مخالف ہو،اور عرف خاص نہ ہو بلکہ عرف عام تو اس صورت میں نص میں تخصیص کی جاسکتی ہے ۔
3:اگر دلیل نص صریحی نہ ہو بلکہ قیاس ہوتو عرف عام کی وجہ سےقیاس کو چھوڑا جاسکتا ہے۔
4:دلالۃ النص کے ذریعے جو معانی ثابت ہوتی ہیں ان کوجاننے اور سمجھنے کے لیے اجتہاد اور غور وفکر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اہل زبان کا ذہن اس تعبیر سے فوراًاس مفہوم کی طرف منتقل ہوجاتا ہےبخلاف قیاس کے کہ قیاسی احکام میں استنباط و اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہےاور مجتہدین ہی ان مسائل کا استنباط کرتے ہیں ،نیز دلالۃ النص قطعی ہوتا ہے اور قیاس ظنی۔
درجہ بالا تفصیل کے مطابق قفیز الطحان کے مسئلے میں بھی چند باتیں قابل غور ہیں:
1:یہ مسئلہ فقہائے کرام ؒ کے نزدیک مختلف فیہا ہے،چنانچہ احناف اور شوافع کے نزدیک یہ معاملہ درست نہیں ،جبکہ موالک حضرات اس کے جواز کے قائل ہیں جب کہ اجرت متعین ہو، اسی طرح احناف میں سے بھی مشائخ بلخ خاص صورت (قفیز الطحان )کے علاوہ عر ف کی وجہ سےجواز کے قائل ہیں،چنانچہ علاّمہ انور شاہ کشمیری ؒ فرماتے ہیں کہ: "وأجازه مشايخ بلخ، فلذا لا أتشدد فيه."(فیض الباری، ج:3، ص:547) یعنی "مشائخ بلخ اس کے جواز کے قائل ہیں ،اس وجہ سے میں اس مسئلہ میں زیادہ شدت اختیار نہیں کرتا۔
2:قفیز الطحان والی روایت کی سند میں محدثین نے کلام کیا ہے،چنانچہ ابن حجر ؒنے اس حدیث کومنكرقرار دیا ہے اور فرماتے ہے کہ :"هذامنكر،وراويه لا يعرف"(لسان المیزان،ج:6، ص:198)،اسی طرح الشرح الکبیر(ج:5، ص:194)میں مذکور ہے کہ:"وهذا الحديث لا نعرفه ولم تثبت صحته" یعنی یہ حدیث پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔تو اس کی سند کے متکلم فیہ ہونے کی وجہ سے اس کا رسول اللہﷺ سے منقول ہونا بھی مشکوک ہے۔
3:قفیز الطحان والی روایت سے باقی صورتوں میں استدلال دلالۃ النص سےہے یا قیاس سے؟اس میں بھی فقہائے کرام کے نزدیک اختلاف پایا جاتا ہے،چنانچہ شمس الائمہ سرخسیؒ کے نزدیک قفیزالطحان کی نوع کے مسائل دلالۃ النص پر مبنی ہیں ،اس لیے عرف ورواج کی بنا پر وہ جائز نہیں ہوسکتے،جبکہ شمس الائمہ حلوانیؒ اور امام ابو علی نسفیؒ کے نزدیک باقی صورتوں میں حكم قیاس سے ثابت ہوتا ہے اس لیے عرف ورواج کی بنا پر وہ جائز ہو سکتی ہیں۔(فتح القدیر،ج:8 ، ص:50)
شمس الائمہ حلوانیؒ اور ابو علی نسفیؒ کے قول کے مطابق اگر دیکھا جائے تو قفیز الطحان کےمسئلہ میں ممانعت کی علت" خود عامل کے عمل کا ایک حصہ اجرت میں مقرر کرنا"ہے،اس علت کا استنباط اہل علم اور ارباب اجتہاد ہی کرسکتے ہیں اور جو لوگ اجتہاد کی صلاحیت سے محروم ہیں ان کا ذہن اس مسئلہ کی طرف منتقل نہیں ہوسکتا۔
اس تفصیل کے مطابق چند باتیں معلوم ہوتی ہیں :
1:قفیز الطحان والی روایت معلول اور متکلم فیہ ہے ۔
2:اس روایت کی اس طرح تاویل ممکن ہے کہ اس کو اس صورت پر محمول کیا جائے جب مقدار مقرر نہ کی گئی ہو۔
3:اگر تاویل نہ کی جائے تب بھی دیگرجزئیات پر حکم قیاس کے قبیل سے ہوسکتاہے جو کہ بعض فقہا ءکا قول بھی ہے،اور قیاس سے جو احکام ثابت ہوں اور عرف ورواج اس کے خلاف ہو توقیاس کو چھوڑدیا جاتا ہے۔
4:ایسی صورتوں میں اگر چہ قطعی مقدار مقرر نہ کی جائے لیکن ایسا تناسب مقررہوجس سے اجرت کی مقداربعد میں متعین ہو جائےاورنزاع پیدا نہ ہوتو کسی معاملہ میں ایسی جہالت اور عدم تعیین جو نزاع کا باعث نہ ہو مضر نہیں۔
لہذا آج کے زمانے میں قفیز الطحان کے قبیل سے معاملات کی جودیگر صورتیں کثرت سے مروج ہیں ،ان میں عرف کو معتبر مان کر مشائخ بلخ کے قول پر فتویٰ دینے کی گنجائش ہے۔
"إذا خالف العرف الدليل الشرعي، فإن خالفه من كل وجه بأن لزم منه ترك النص، فلا شكّ في رده، كتعارف الناس كثيرا من المحرّمات من الربا، و شرب الخمر، ولبس الحرير والذهب، و غير ذلك مما ورد تحريمه نصا، وإن لم يخالفه من كل وجه، بأن ورد الدليل عاماً والعرف خالفه في بعض أفراده، أو كان الدليل قياسا،فإن العرف معتبر إن كان عاما،فإن العرف العام يصلح مخصّصا كما مرّعن التحرير، ويترك به القياس كما صرحوا به في مسئلة الاستصناع، و دخول الحمام، والشرب من السقا...وتخصيص النص بالتعامل جائز،ألا ترى أنا جوزنا الاستصناع للتعامل،والاستصناع بيع ما ليس عنده، وأنه منهيّ عنه، و تجويز الاستصناع بالتعامل تخصيص منه للنص الذي ورد في النهي عن بيع ما ليس عند الإنسان، لا ترك للنص أصلاً؛لأنا عملنا بالنص في غير الاستصناع."(مجموعة رسائل ابن عابدين، الرسالة الرابعة والعشرون، الباب الأول إذا خالف العرف الدليل الشرعي، ج:2، ص:159،158، 160)
"و لو سلّم أنّ المراد بالعرف الخاص ما ذكرته، فاعتبار العرف الخاص ببلدة واحدة قول في المذهب، والقول الضعيف يجوز العمل به عند الضرورة، كما بيّنته في أخر شرح المنظومة، والله تعالى أعلم. .(مجموعة رسائل ابن عابدين، الرسالة الرابعة والعشرون، الباب الأول إذا خالف العرف الدليل الشرعي، ج:2، ص:170)
"وأما حد دلالة النّص فهو قوله على الحكم في شيء، أي دلالة اللفظ على الحكم في شيء يوجد فيه معنى، يفهم كل من يعرف اللغة أن الحكم في المنطوق لأجل ذلك المعنى يسمى دلالة النص نحو {فلا تقل لهما أف} [الإسراء: 23] يدل على حرمة الضرب فالضرب شيء يوجد فيه الأذى، والأذى هو معنى يفهم كل من يعرف اللغة أن الحكم بالحرمة في المنطوق، وهو التأفيف لأجله…وإنما قلنا يفهم كل من يعرف اللغة؛ لأنه إن لم يفهم أحد، أو يفهم البعض دون البعض فلا دلالة من حيث اللفظ إذالدلالة اللفظية إنما اعتبرت بالنسبة إلى كل من هو عالم بالوضع، وبهذا القيد خرج القياس فإن المعنى في القياس لا يفهمه كل من يعرف اللغة فإنه لا يفهمه إلا المجتهد هذا هو نهاية أقدام التحقيق والتنقيح في هذا الموضع، ولم يسبقني أحد إلى كشف الغطاء عن وجوه."(التوضيح، التقسيم الرابع في كيفية دلالة اللفظ على المعنى، ج:1، ص:289-290)
"ومما ورد النهي فيه من هذا الباب ما روي: «أنه صلى الله عليه وسلم نهى عن عسيب الفحل، وعن كسب الحجام، وعن قفيز الطحان» . قال الطحاوي: ومعنى نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان هو ما كانوا يفعلونه في الجاهلية من دفع القمح إلى الطحان بجزء من الدقيق الذي يطحنه، قالوا: وهذا لا يجوز عندنا، وهو استئجار من المستأجر بعين ليس عنده، ولا هي من الأشياء التي تكون ديونا على الذمم، ووافقه الشافعي على هذا. وقال أصحابه: لو استأجر السلاخ بالجلد والطحان بالنخالة، أو بصاع من الدقيق فسد لنهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان، وهذا على مذهب مالك جائز؛ لأنه استأجره على جزء من الطعام معلوم، وأجرة الطحان ذلك الجزء وهو معلوم أيضا.(بداية المجتهدونهايةالمقتصد(الفقه المالكي)، القسم الأول في أقسام الاجارات وشروط الصحة والفساد،ج:4، ص:10)
"قوله: (وهذا على مذهب مالك جائز؛ لأنه استأجره على جزء من الطعام معلوم، وأجرة الطحان ذلك الجزء وهو معلوم أيضا).وأما الأئمة أبو حنيفة والشافعي وأحمد فمنعوا ذلك."(بغية المقتصد شرح بداية المجتهد، فائدة، ج:13، ص:7693)
"بخلاف ما نحن فيه فإنه في معنى قفيز الطحان من كل وجه؛ لأنه استئجار محض ليس فيه شائبة المضاربة، فلهذا قيل: إنه ثابت بدلالة النص دون القياس. ولئن سلم مخالفة ما سيجيء من المصنف هناك لما ذكره صاحب العناية هاهنا فلا ضير فيها؛ لأن فيما نحن فيه قولين: أحدهما أنه ثابت بدلالة النص فلا يترك بالعرف، وهو مختار شمس الأئمة السرخسي.وثانيهما أنه من حيث القياس فيترك بالتعامل كالاستصناع، وهو مختار شمس الأئمة الحلواني وأستاذه القاضي الإمام أبي علي النسفي كما فصل في المبسوط وغيره وذكر في النهاية، ومعراج الدراية أيضا."(فتح القدير، كتاب الإجارة، باب الاجارة الفاسدة، ج:8، ص:50)
"هشام" أبو كليب عن ابن أبي نعيم والشعبي، وعنه الثوري كعبيد الله بن موسى عن سفيان عنه عن أبي نعيم عن أبي سعيد قال نهى عن عسب الفحل وعن قفيز الطحان، هذا منكر ،وراويه لا يعرف انتهى وذكره ابن حبان في الثقات."(لسان الميزان، ابن حجر العسقلاني، من اسمه هشام، ج:6، ص:198)
"(فصل) وقد ذكر ابن عقيل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن قفيز الطحان وهو ان يعطي الطحان أقفزة معلومة يطحنها يقفيز دقيق منها وعلة المنع أنه جعل له بعض معموله أجراً لعمله فيصير الطحن مستحقاً له وعليه وهذا الحديث لا نعرفه ولم تثبت صحته ولا ذكره أصحاب السنن وقياس قول أحمد جوازه لما ذكرنا عنه من المسائل."(الشرح الكبير،شمس الدين ابو الفرج، مسألة:وإن آجراهما...، ج:5، ص:194)
"قوله: (لا بأس أن يعطي الثوب بالثلث) … إلخ، وتسمى عندنا بقفيز الطحان، وهي إعطاء الأجير أجرته مما حصل له من عمله. وأجازه مشايخ بلخ، فلذا لا أتشدّد فيه، وللقول المشهور قوله: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان».(فيض الباري على صحيح البخاري، باب إذا لم يشترط السنين في المزارعة، ج:3، ص:547)