بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

تصویر والے کمرے میں نماز پڑھنا


سوال

میں سرکاری جاب کرتا ہوں ،صبح 9 بجہ سے لیکر 4 بجہ تک دفتر میں مصروف ہوتا ہوں اس دوران ظہر کی نماز کا وقت بھی آ جاتا ہے، میں نے دفتر میں ایک جائے نماز رکھا ہے اور مستقل اسی دفتر میں ظہر کی نماز ادا کرتا ہوں کیونکہ مسجددور ہونے کی وجہ سے جانے میں بہت ٹائم لگتا ہےلیکن دفتر میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر لگی ہے ،تو کیا اس دفتر میں تصویر کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا جائزہے؟

جواب

فقہائے کرام نےتصاویر والی جگہوں میں نماز پڑھنے کو مکروہ لکھا ہے اس لیے جس کمرے میں نماز کے دوران جاندار کی تصویر نمازی کے سامنے،اوپر،  دائیں یا بائیں ہو اور بڑی ہونے کی وجہ سے واضح نظر آتی ہو تووہاں نماز پڑھنا مکروہ ہےالبتہ اگر تصویراتنی چھوٹی ہوکہ بغیر مشقت کےواضح نظرنہ آتی ہو تو وہاں نماز پڑھنا مکروہ نہیں۔ اسی طرح اگر تصویر نمازی کے سامنے ہو تو اس کی کراہت اوپر،دائیں،بائیں اور پیچھے لگی تصویر سے زیادہ ہےاسی طرح دائیں طرف لگی تصویر کی کراہت بائیں اورپیچھے سے زیادہ ہےاور سب سے کم کراہت پیچھے لگی ہوئی تصویر کی ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق دفتر میں تصویر کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے، البتہ اگر تصویر نمازی کےدائیں،بائیں یا پیچھے کی طرف ہو تو اس کی کراہت سامنے والی تصویر کی بنسبت کم ہےتاہم اگر نماز پڑھتے وقت تصویر کو کپڑے وغیرہ سے چھپا دیا جائے تو نماز بلاکراہت درست  ہوگی۔

 

‌ويكره ‌أن ‌يصلي ‌وبين ‌يديه ‌أو ‌فوق ‌رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير وفي البساط روايتان والصحيح أنه لا يكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير وهذا إذا كانت الصورة كبيرة تبدو للناظر من غير تكلف، كذا في فتاوى قاضي خان۔ ولو كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر إلا بتأمل لا يكره۔۔۔وأشدها كراهة أن تكون أمام المصلي ثم فوق رأسه ثم يمينه ثم يساره ثم خلفه. هكذا في الكافي وفي التهذيب ولو كانت على وسادة منصوبة بين يديه يكره ولو كانت ملقاة على الأرض لا يكره۔(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب السابع: فيما يفسد الصلاة، وما يكره فيها، ج:1، ص:166)

قال رحمه الله:(ولبس ثوب فيه تصاوير) لأنه يشبه حامل الصنم فيكره۔ قال رحمه الله:(‌وأن ‌يكون ‌فوق ‌رأسه ‌أو ‌بين ‌يديه أو بحذائه صورة) لقوله صلى الله عليه وسلم لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة؛ ولأنه يشبه عبادتها فيكره، وأشدها كراهة أن تكون أمام المصلي ثم فوق رأسه، ثم على يمينه، ثم على يساره، ثم خلفه، وفي الغاية إن كان التمثال في مؤخر الظهر والقبلة لا يكره، لأنه لا يشبه عبادته وفي الجامع الصغير أطلق الكراهة۔ قال رحمه الله:(إلا أن تكون صغيرة) لأنها لا تعبد إذا كانت صغيرة بحيث لا تبدو للناظر والكراهة باعتبار العبادة فإذا لم يعبد مثلها لا يكره۔ (تبيين الحقائق، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، ج:1، ص:414)


فتویٰ نمبر : 10046/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں