بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

بیوہ ،دو بیٹیوں ،بھائی اوربہن کے درمیان تقسیم میراث


سوال

ایک شخص کاا نتقال ہو چکا ہے جس کے ورثا میں  ایک بیوہ،دو بیٹیاں،ایک بھائی،ایک بہن ،اور تین بھتیجے موجود ہیں ۔ان مذکورہ بھتیجوں کے والد میت سے پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ان میں ترکہ کیسے تقسیم ہوگا۔کیا بھتیجوں کو حصہ ملے گا؟

جواب

میــــــــــــــــــ(72)ــــــــــــــــــــت

 بیوہ       بیٹی        بیٹی       بھائی       بہن

 9         24        24         10          5

 

بشرط صدق وثبوت اگر  مرحوم کے مذکورہ  بالا ورثاء کے علاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ   موجود نہ ہو تو بعد ازادائےحقوق متقدمہ علی الارث مرحوم  کا   ترکہ بہتر(72) حصوں میں تقسیم   ہو کر بیوہ کو9/72حصے،اور ہر ایک بیٹی کو24/72حصے ،بھائی کو10/72اوربہن کو5/72حصے ملیں گے۔ مرحوم کے بھتیجوں کا میراث میں کوئی حصہ  نہیں بنتا۔

 

قال اللہ تعالی﴿یُوصِیكُمُ ٱللَّهُ فِیۤ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَیَیۡنِۚ فَإِن كُنَّ نِسَاۤءࣰ فَوۡقَ ٱثۡنَتَیۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَاتَرَكَۖ﴾.(النساء،الآية:11)

وقال تعالی﴿فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدࣱ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِیَّةࣲ تُوصُونَ بِهَاۤ أَوۡ دَیۡنࣲۗ﴾.(النساء،الآية:12)


فتویٰ نمبر : 3607/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں