بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

ایک فعل پر متعدد قسمیں اٹھانے کےبعد کفارہ


سوال

میں سٹنگ ( (stingبہت زیادہ پیتا تھااس میں کیفین کی مقدار دوسرے کولڈ ڈرنکس  کی بنسبت زیادہ  ہوتی ہیں جس کی وجہ سے انسان اس کے پینے کا عادی بن جاتا ہےاوراس کے پیچھے لکھا بھی ہوتا ہے کہ اس میں کیفین کی مقدار زیادہ ہے لہذا بچوں اور حاملہ عورتوں کو نہ پلائیں اور سوشل میڈیا پر اس کے اور بھی نقصانات  بیان ہوتے تھے جس کو میں سنتا تھاان نقصانات کو دیکھ کر میں نے دوستوں کے سامنے قسم   کھائی  تھی کہ آئندہ نہیں پیونگا پھر کچھ دنوں بعد میرے دوست میرے سامنے پی رہے تھے تو میں نے بھی پی لیا لیکن اس کے بعد پھر قسم کھائی کہ آئندہ نہیں پیونگا  لیکن کچھ دنوں بعد پھر پی لیا اور یہ عمل میں آٹھ بار کر چکا  ہوں  تو کیا میں آٹھ قسموں کے کفارے دوں گا؟

جواب

جب کوئی شخص کسی ایک فعل پر بار بار قسم اٹھاکر اس میں حانث ہوتا رہے تو اگر درمیان میں  کسی قسم کاکفارہ ادا نہ کیا ہو، تو اس پر ان تمام قسموں کی وجہ سے ایک ہی کفارہ لازم آئے گا۔

صورت مسئولہ  کے مطابق  اگر سائل نے اس بات پر بار بار قسم اٹھائی ہو کہ"آئندہ میں سٹنگ((stingنہیں پیوں گا"اور باربار اس قسم کو توڑاہو تو اگر  درمیان میں کسی  قسم کا کفارہ ادا کیا ہو اور اس کے بعد قسم کھا کر پھر حانث ہوا ہو تو دوبارہ کفارہ ادا کرے گا البتہ اگر درمیان میں کسی قسم کا کفارہ ادا نہ کیا ہو تو ان سب کا ایک ہی کفارہ  ادا کرنے سے ذمہ فارغ ہوجائے گا۔

 

عن ابن جريج قال: حدثني هشام بن عروة، أن إنسانا استفتى عروة بن الزبير، فقال: يا أبا عبد الله، إن جارية لي قد تعرضت لي، فأقسمت أن لا أقربها، ثم تعرضت لي، فأقسمت أن لا أقربها، ثم تعرضت لي، فأقسمت أن لا أقربها، فأكفر ‌كفارة ‌واحدة، أو كفارات متفارقات؟ قال: «هي ‌كفارة ‌واحدة»(مصنف عبد الزاق،باب الحلف علی أمور شتی،ج:8،ص:504)

(قوله وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين) وفي البغية: ‌كفارات ‌الأيمان ‌إذا ‌كثرت ‌تداخلت، ويخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع. وقال شهاب الأئمة: هذا قول محمد. قال صاحب الأصل: هو المختار عندي، ومثله في القهستاني عن المنية.(رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الأيمان، مطلب تعدد الكفارة لتعدد اليمين ج:5،ص:505)

وإذا حلف الرجل على أمر لا يفعله أبدا، ثم حلف في ذلك المجلس أو في مجلس آخر لا يفعله أبدا، ثم فعله، إذا نوى بالكلام الثاني اليمين الأول، فعليه ‌كفارة ‌واحدة؛ لأنه قصد التكرار، والكلام الواحد قد يكرر.(المبسوط للسرحسي،باب الأيمان،ج:8،ص:158)


فتویٰ نمبر : 10105/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں