بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

خواتین کا باجماعت نماز پڑھنے کا حکم


سوال

اگركسی  مسجد کے بیسمنٹ میں عورتوں کے لیے پردے کا انتظام کیا جائے تو کیا عورتیں باجماعت نماز پڑھنے کے لیے مسجد آسکتی ہیں ؟ 

جواب

حدیث شریف میں عورت کا گھر میں اور پھر گھر کے کسی کونے میں نماز پڑھنے کو افضل قرار دیا ہے اور امت کا تعامل بھی اسی پر چلا آرہا ہے،چنانچہ عورت کی لیے بہتر یہ ہے کہ وہ گھر میں نماز پڑھے نماز باجماعت میں شرکت نہ کرے،اسی لیے  فقہائے کرام نے عورتوں کی  نماز باجماعت میں شرکت کو مکروہ قرار دیا ہے،اس لیے عورتوں کے لیے نماز باجماعت کے اہتمام کے لیے مستقل جگہ بنانا اور عورتوں کو باجماعت نماز ادا کرنے کی دعوت دینا مکروہ ہے،البتہ عورتیں گھر سے باہر ہوں اور نماز کے قضا ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز کی سہولت میسر کرنے کی غرض سے اگر کوئی جگہ مخصوص کی جائے اور باقاعدہ پردے کا اہتمام ہو تو اس کی گنجائش پائی جاتی ہے۔

 

قوله :(لا يحضرن  الجماعات )لأنه لايؤمن من الفتنة من خروجهن أطلقه فشمل الشابة والعجوز،والصلوة النهارية والليلية،قال المصنف في الكافي :والفتوى اليوم  على الكراهة في الصلوة كلهالظهور الفساد.(البحر الرائق،كتاب الصلوة،باب الإمامة،ج:1،ص:627)

(‌ويكره ‌حضورهن ‌الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقا) ولو عجوزا ليلا (على المذهب) المفتى به لفساد الزمان.(الدرالمختار،كتاب الصلوة،،ج:2،ص:308)

قوله: "صلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها"... فالمرأة إذا كانت في المخدع تكون أستر من أن تكون في البيت، وفي البيت أستر من أن تكون في الحجرة، وإذا كانت أستر فصلاتها أفضل.(المفاتيح في شرح المصابيح،باب الجماعة وفضلها،ج:2،ص:219)


فتویٰ نمبر : 10041/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں