بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

برقعے کے اوپر شہوت کے ساتھ ہاتھ لگانے سے حرمت مصاہرت کا ثبوت


سوال

ایک بالغ لڑکے نے کسی عورت کی چھاتی کو ہاتھ لگایا جبکہ عورت برقعے میں تھی،ہاتھ لگاتے وقت لڑکے کی شہوت خوب جوبن پر تھی البتہ ہاتھ برقعےکے اوپر سے لگایا تھااور ہاتھ لگانے سے دل کی دھڑکن مزید تیز ہوئی،اب اس لڑکے کا اس عورت کی بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حرمت ِ مصاہرت ثابت ہونے کے لیےایک شرط یہ بھی ہے کہ کوئی شخص کسی مشتہاۃ عورت(جس کی عمر نو سال سے زیادہ ہو)کوشہوت کے ساتھ چھو لے یا بوسہ لےاور درمیان میں کوئی ایسا حائل کپڑا وغیرہ نہ ہو جو جسم کی حرارت کے لیے مانع ہو ،اس سے حرمتِ  مصاہرت ثابت ہوتی ہے بشرط یہ کہ چھوتے وقت جانبین کو یا کسی ایک جانب شہوت  پیدا ہو۔اور اگر درمیان میں حائل موجود ہو لیکن اتنا موٹا ہوکہ اس کے ہوتے ہوئے جسم کی حرارت محسوس نہ ہوتو حرمت  مصاہرت ثابت نہیں ہوگی۔

صورت مسؤلہ میں عام طور پر چونکہ برقع باریک کپڑے کا نہیں ہوتا اور کپڑوں کے اوپر پہناجاتا ہے اس لیے اس کے اوپر ہاتھ لگانے سےحرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی اور یہ شخص اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے۔

 

"(‌و) ‌حرم ‌أيضا ‌بالصهرية (أصل مزنيته) أراد بالزنى الوطئ الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة.قوله: (بحائل لا يمنع الحرارة) أي ولو بحائل إلخ، فلو كان مانعا لا تثبت الحرمة، كذا في أكثر الكتب۔(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب النكاح، فصل في المحرّمات، ج:4، ص:107-108)

‌‌"ثم ‌المسّ ‌إنما ‌يوجب ‌حرمة ‌المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقاً لا يجد حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة، وإن انتشرت آلته إليه بذلك، وإن كان رقيقاً بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت حرمة المصاهرة.(المحيط البرهاني، كتاب النكاح، الفصل الثالث عشر في بيان أسباب التحريم، ج:3، ص:183)


فتویٰ نمبر : 6941/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں