بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

جاسوسی کرنے کی غرض سے داڑھی منڈوانا


سوال

 اسلامی ریاست کی طرف سے جاسوسی کرنے کے لیے داڑھی منڈواناکیسا ہے؟

جواب

داڑھی تمام انبیائے کرام کی سنت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔احادیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے،اور داڑھی کاٹنے کو منافقین اور مشرکین کی موافقت قرار دیاہے،اس لیے تمام ائمہ کے ہاں داڑھی مونڈواناحرام اور ناجائزہے۔    

لہذا عام حالات میں داڑھی منڈوانے کی قطعاًاجازت نہیں۔ تاہم صورت مسئولہ کے مطابق اگر اسلامی ریاست کو بیرونی سازشوں کا سامنا ہو، اور امن وسلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو،جس کے لیے دشمن کے عزائم معلوم کرنے کی خاطرجاسوسی کی ضرورت ہوتواس مقصد کے لیے بوجہ مجبوری اور بقدرِ ضرورت داڑھی منڈوانے کی گنجائش ہے۔

 

عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "‌خالفوا ‌المشركين: وفروا اللحى وأحفوا الشوارب".(صحيح البخاري ، كتاب اللباس، ج:7، ص:160، الرقم:5892) 

قال عمرو: سمعت جابر ابن عبد الله رضي الله عنهما يقول:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من لكعب بن الأشرف، فإنه قد آذى الله ورسوله). فقام محمد بن مسلمة فقال: يا رسول الله، أتحب أن أقتله؟ قال: (نعم). قال: فائذن لي ‌أن ‌أقول ‌شيئا، قال: (قل) فأتاه محمد بن مسلمة فقال: إن هذا الرجل قد سألنا صدقة، وإنه قد عنانا، وإني قد أتيتك أستسلفك، قال: وأيضا والله لتملنه، قال: إنا قد اتبعناه، فلا نحب أن ندعه حتى ننظر إلى أي شيء يصير شأنه، وقد أردنا أن تسلفنا وسقا أو وسقين ۔ ۔ ۔ فقال: ما رأيت كاليوم ريحا، أي أطيب، وقال غير عمرو: قال عندي أعطر نساء العرب وأكمل العرب. قال عمرو: فقال أتأذن لي أن أشم رأسك؟ قال: نعم، فشمه ثم أشم أصحابه، ثم قال: أتأذن لي؟ قال: نعم، فلما استمكن منه، قال: دونكم، فقتلوه، ثم أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فأخبروه.(صحيح البخارى، كتاب المغازي، ج:4،ص:1481، الرقم:3811 )

قوله: (فأذن لي ‌أن ‌أقول ‌شيئا) يعني مما يسر كعبا. قوله: (قال: قل) أي: قال النبي صلى الله عليه وسلم، لمحمد بن مسلمة: قل، وفي رواية محمد بن إسحاق: فقال: يا رسول الله! لا بد لنا أن نقول، فقال: قولوا ما بدا لكم، فأنتم في حل من ذلك.(عمدة القاري، كتاب المغازي، ج:17، ص:136)

"‌الضرورات ‌تبيح ‌المحظورات"(الأشباه والنظائر، ج:1، ص:49)


فتویٰ نمبر : 5886/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں