بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

Quatexایپلیکیشن کے ذریعے نفع کمانا


سوال

Quatex) ایلکیشن پر کرنسی کا کاروبار کرنا جائز ہے  یا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ خرید و فروخت کے معاملات میں شرط یہ ہے کہ جن اشیاء کی خرید وفروخت  ہو رہی ہو معاملہ طے پاتے وقت ان کا وجود قطعی ویقینی ہو اور ان کی معدومیت (ناپیدگی) کا کوئی شائبہ نہ ہو ،  اسی طرح مبیع معلوم و متعین ہواور مبیع  آگے فروخت کرنے سے پہلے اس مبیع کو باقاعدہ   قبض کر کے اپنے ضمان اور تحویل میں لیا جائے   اور  اگر خریدی ہوئی چیز مشاع (مشترک غیر منقسم) ہو تو اس میں باقاعدہ افراز  ہو ،بصورت دیگر بیع ناجائز  متصور ہوگی نیز یہ کہ مختلف ممالک کی کرنسیوں کے باہمی تبادلہ  میں شرط یہ ہے کہ مجلس عقد میں احد البدلین(دونوں میں سے ایک) پر قبضہ ہو جائے   چنانچہ دونوں میں  سے کسی ایک پر بھی اگر قبضہ نہ ہو تو  بیع ناجائز ہوگی۔

 آن لائن Quatexٹریڈنگ Forex ٹریڈنگ ہے۔ اور  Froex میں درج ذیل  قباحتیں پائی جاتی ہیں  :

اس میں جن اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی ہے ان کا وجود قطعی اور یقینی نہیں ہوتا  ، خریدار جو چیز خریدتا ہے اسے کوئی علم نہیں ہوتا کہ وہ چیز حقیقت میں بائع (فروخت کنندہ )کے پاس موجود ہے یا نہیں  اگر موجود ہے تو کہاں اور کتنی مقدار میں موجود ہے چونکہ خریدار کا مقصد اشیاء خریدنا نہیں ہوتا بلکہ   ریٹ کے اتار چڑھاؤ سے ہونے والے نفع کا حصول ہوتا ہے اس لئے  خریدار  اشیاء کے موجود ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا  جبکہ شرعاً ان کاموجود ہونا ضروری ہےلہذا فاریکس ٹریڈنگ کے ذریعہ کئے جانے والے معاملات میں بیع معدوم کا قوی امکان پایا جاتا ہے۔

(2)مالی معاملات میں جہاں کہیں اشیاء یا خدمات کا حقیقی وجود نہ ہو اور محض کسی فرضی چیز کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی جائے تو یہ قمار (سٹہ) کے حکم میں داخل ہو کر ناجائز ٹہرتا ہے اسی طرح جس معاملہ میں نفع و نقصان کا مدار کسی موہوم اور متردد واقعہ پر ہو وہ بھی قمار میں داخل ہے۔ Forex کا بھی یہی معاملہ ہے کہ یہاں کسی غیر یقینی اور فرضی مبیع کا نام لیکر سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور نفع و نقصان کا مدار قیمتوں کے اتار چڑھاؤ  پر ہوتا ہے جو ایک موہوم اور متردد صورتحال ہے اس لئے اس کاروبار میں  قمار کابھی قوی امکان  ہے جو نص صریحی سے حرام ہے۔

3) Froex(  ٹریڈنگ میں  عموما مبیع موجود نہیں ہوتا تاہم  اگر ایسی چیز خریدی جائے جس کا حقیقی وجود  ہو تو خریدار  کا آگے فروخت کرنے سے پہلے اس پر قبضہ ضروری ہے اور  چونکہ اس مبیع کا بائع کی ملکیت میں آنا مشکل  ہے  کیو نکہ عموما لوگ بیع و شراء صرف قیمتوں کے اتار چڑھاؤ  کے ذریعہ نفع اٹھانے کے لئے کرتےہیں   ان کا مقصد مبیع  کا حصول نہیں ہوتا اسی وجہ  سے بغیر قبضہ کئے آگے فروخت کردیتے ہیں لہذا یہ بیع قبل القبض کی قباحت سے بھی خالی نہیں  اور بیع قبل القبض ناجائز ہے۔

 (4)مختلف ممالک کی کرنسیوں کے باہم تبادلہ کے وقت مجلس عقد میں احد البدلین (دونوں میں سے ایک) پر قبضہ ضروری ہے ورنہ عقد "بیع الکالی بالکالی" کے زمرہ میں داخل ہو کر  ناجائز ہوتا ہے ، Forexٹریڈنگ میں  جب کرنسی خریدی جاتی ہے تو کسی جانب سے بھی پورا قبضہ نہیں ہوتا اس لئے یہ بھی ناجائز ہے۔

الغرض: Forexٹریڈنگ کے ذریعہ  کاروبار قمار (سٹہ) ، بیع المعدوم(غیر موجود شئی کی بیع) ، بیع قبل القبض (قبضہ سے پہلےمبیع آگے فروخت کرنا) اور بیع الکالی بالکالی(قرض کا قرض کے بدلے بیع)پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے  اور اس میں سرمایہ  کاری شرعا جائز نہیں اس لئے مسلمانوں پر اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے  ۔

 

قال الله تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔(المائده:90)

:وقال ‌الضحاك، ‌عن ‌ابن ‌عباس، ‌قال: الميسر هو القمار، كانوا يتقامرون في الجاهلية إلى مجيء الإسلام، فنهاهم الله عن هذه الأخلاق القبيحة.(تفسير ابن كثير، آیة:90-93، ج:3، ص:160)

وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد ‌بيع ‌المعدوم،(بدائع الصنائع،کتاب البیوع،فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ،ج؛5ص(138)

وإذا عرفت المبيع والثمن فنقول ‌من ‌حكم ‌المبيع إذا كان منقولا أن لا يجوز بيعه قبل القبض،(الفتاوى الهندية،الفصل الثالث في معرفة المبيع والثمن،كتاب البيوع،ج:3،ص:1)

وعن ابن عمر: أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ‌بيع ‌الكالئ بالكالئ۔(مشکاۃ المصابیح،باب المنھی عنھا من البیوع،الفصل الثانی،رقم الحدیث،2863)

(ومنها) أن يكون مقبوضا في مجلس السلم لأن المسلم فيه دين، والافتراق لا عن قبض رأس المال يكون افتراقا عن دين بدين وإنه منهي عنه ‌ لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم «نهى عن ‌بيع ‌الكالئ بالكالئ» أي النسيئة بالنسيئة،(بدائع الصنائع،كتاب البيوع،فصل في شرائط الركن،ج:5،ص:202)


فتویٰ نمبر : 3782/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں