بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

گائے پالنے کے عوض دودھ لینا


سوال

ہمارے علاقے میں لوگوں میں یہ رواج ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی رشتہ دار کو یا کسی دوسرے کو گائے پالنے کے لیے دے دیتا ہے وہ شخص اس گائے کو دو یا تین سال اپنے گھر میں پالتا  ہے اور اس کا دودھ  استعمال کرتا ہے اور  جب یہ گائے بچہ جنم دے تو   دو یا تین سال بعد یہ گائے مالک کو واپس کرتا ہے   اور  یہ بچہ اس پالنے والے شخص کا ہوتا ہے ،شرعا اس مسئلے کی کیا صورت ہو سکتی ہے اس میں عرف کو اعتبار دیتے ہوئے  کیاجواز کی گنجائش ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  عقد اجارہ کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ اجارہ کی مدت اور  اجیر کی اجرت متعین ہو،اور جس چیز کو بطور  اجرت مقرر کیا گیا ہو وہ اجیر کے منافع سے حاصل شدہ نہ ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق عقد اجارہ کی مذکورہ صورت جائز نہیں ،  بلکہ یہ اجارہ فاسدہ ہے ،کیونکہ اجارہ کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اجیر کی اجرت معین ہو ، جبکہ  اس گائے کے دودھ اور اس سے پیدا ہونے والے بچے  کو اجرت بنانے میں جہالت ہے  کیونکہ دودھ کی مقدار معین نہیں ،اور اس  گائے سے بچے کا پیدا ہونا یقینی بھی نہیں ،لہذا  یہ اجارہ فاسد ہے۔البتہ اس کے جائز ہونے کی یہ صورت ہے کہ  پالنے والے کے لیے دودھ کی ایک خاص مقدار مقرر کر لی جائے،پھر مالک (موجر) چاہے تو یہ دودھ اسی گائے سے دے یا کسی دوسری گائے کا دودھ دے۔یا  مستاجر موجر(مالک)  کے ساتھ اس گائے میں شریک ہو جائے ،اس طرح دونوں  اصل گائے، دودھ اور اس سے پیدا ہونے والے ہر  بچے میں شریک ہوں گے۔

 

ولا تصح ‌حتى ‌تكون ‌المنافع معلومة، والأجرة معلومة"(الهداية،كتاب الاجارات،ج:3،ص:296)

‌دفع ‌بقرة ‌إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه ۔(الفتاوی الهندیة،كتاب الاجارة،ج:4،ص:481)

والحيلة في ذلك ‌لمن ‌أراد ‌الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد لأن الدقيق إذا لم يكن مضافا إلى حنطة بعينها يجب في الذمة والأجر كما يجوز أن يكون مشارا إليه يجوز أن يكون دينا في الذمة ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط ۔(الفتاوی الهندیة،كتاب الاجارة،ج:4،ص:480)


فتویٰ نمبر : 3544/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں