بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

بائع کا مشتری سے آمد و رفت کے خرچے اور مدت بڑھنے کی وجہ سے مزید رقم کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص نے کچھ بکریاں دوسرے پر فروخت کیں، فی بکری سولہ ہزار روپے میں اس شرط پر فروخت کی کہ تین ماہ کے اندر سارے پیسے واپس کرنا ہوں گے،مگر مشتری نے اس مدت  میں  پیسے واپس نہیں کئے،اب بائع کا مشتری سے پیسے وصول کرنے میں آنے جانے کا جو  کرایہ  لگتا  ہے اس کرایہ کا مطالبہ اور مدت  بڑھ جانے کی وجہ سے رقم میں کچھ زیادتی کا مطالبہ کرنا   کیاجائز ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر بائع مشتری پر  مقرره مدت تك کوئی چیز  فروخت کرے ،اور مدت پوری ہو نے کے بعد مشتری پیسے واپس کرنے میں تاخیر کرے جس کی وجہ سے بائع کا مشتری کے پاس بار بار جانے میں  خرچہ ہوتا  ہو  تو بائع کے لیے مشتری سے آمد و رفت کے خرچے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ۔اور نہ ہی مدت بڑھ جانے کی وجہ سے  رقم پر زیادتی کا مطالبہ کرنا جائز ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر  مشتری  نے   مقررہ مدت میں پیسے واپس نہیں کئے اور بائع کا پیسے وصول کرنے کے لیے مشتری کے پاس بار بار جانے  میں آمدورفت کا خرچہ ہوتا ہے ۔ تو بائع کے لیے آمد ورفت کے خرچے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں اور نہ ہی مدت مقررہ میں  پیسے واپس نہ کرنے کی  وجہ سے مزید رقم کا مطالبہ کرنا جائز ہو گا۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ‌مطل ‌الغني ‌ظلم، فإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع.(صحيح البخاري،کتاب الحوالات،ج:3ص:94)

إن الواجب فى باب القرض رد مثل المقبوض۔(بدائع الصنائع،كتاب القرض،ج:10ص:596)

(‌وأما) ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: ‌فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز۔۔أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه "نهى عن قرض جر نفعا" ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا۔(بدائع الصنائع،كتاب القرض،ج:7، ص:395)


فتویٰ نمبر : 5855/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں