بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

كنويں ميں نامعلوم وقت سے چوہے كا پايا جانا


سوال

 ایک کنویں میں اتوار کی شام  ایک مردہ چوہا پایا گیا اور پھٹا یا ریزہ ریزہ نہیں ہوا تھا ،البتہ کنویں کے پانی میں ہفتہ کی صبح سے   دو آدمیوں کے قول کے مطابق بد بو آرہی تھی ۔اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں کتنی نمازوں کا اعادہ کرنا ضرور ی ہے نیز متوضی کے جسم سے (اس پانی سے وضو کرنے كے بعد ) پانی کے قطرے مسجد کے قالین پر گرجائیں تو اس قالین پر نماز کا کیا حکم ہے ؟برائے کرم رہنمائی فرمائیں ارجنٹ مسئلہ ہے نوٹ : مذکورہ کنواں ایک مدرسے کے اندر ہے اور مدرسے میں بہت سے ائمہ بھی ہیں جنہوں نے اس حالت میں لوگوں کو نماز یں بھی پڑھائی ہیں۔

جواب

 اگر کنویں سے مردہ حیوان بر آمد ہوجائے اور اس کے گرنے کا وقت معلوم نہ ہو تو اس میں امام ابو حنیفہ ؒ اور صاحبین ؒ کی رائے الگ الگ ہے۔ امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک اگر جانور پھولا پھٹا نہ ہو تو ایک دن سے نجس متصور ہوگا ،لہذا ایک دن کی نمازوں کا اعادہ کیا جائے گا ،صاحبین ؒ کے ہاں  کنویں کا پانی اس مردہ حیوان کے نکلنے کے وقت  سے نجس سمجھا جائے گا کیوں کہ ابھی تک اس پانی کی طہارت  یقینی تھی ،ابھی شک کی وجہ سے وہ یقین متاثر نہیں ہوگا ، لہذا گزشتہ نمازوں کا اعادہ ضروری نہیں ۔صاحبین ؒ کے قول میں  سہولت اور آسانی ہے اس لیے فقہائے کرام فتوی کے لیے اس قول کو راجح قرار دیتے ہیں ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  اگر کنویں میں چوہا گرنے کا وقت یقینی طور پر معلوم نہ ہو تو محض شک کی بنیاد پر گزشتہ نمازوں کا اعادہ نہیں کیا جائے گا ، البتہ جس وقت  سے معلوم ہوا  کہ کنويں میں کوئی چوہا مرا ہے تو اس وقت سے اس کنويں پر نجاست کا حکم لگے گا ۔

 

(ويحكم بنجاستها)مغلظة (من وقت الوقوع إن علم، وإلا فمذ يوم وليلة إن لم ينفتخ ولم يتفسخ)وهذا (في حق الوضوء) والغسل؛ وما عجن به فيطعم...(ومذ ثلاثة ايام)بلياليها(إن انتفخ أو تفسخ) استحسانا.وقالا: من وقت العلم فلا يلزمهم شيء قبله، قيل وبه يفتى.(الدر المختار شرح تنوير الابصار، كتاب الطهارة،باب المياه، فصل فى البئر، ج:1، ص:378،377)

(فلا يلزمهم) أى أصحاب البئر شيء من اعادة الصلاة أو غسل ما أصابه ماءها كما صرح به الزيلعي و صاحب البحر والفيض وشارح المنية،...(قبله) أى قبل العلم بالنجاسة. قوله: (قيل وبه يفتى) قائله صاحب الجوهرة.وقال العلامة قاسم فى تصحيح القدورى: قال فى فتاوى العتابي: قولهما هو المختار.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة،فصل فصل فى البئر، ج:1، ص:378)


فتویٰ نمبر : 10039/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں