بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
تحریری طلاق بیوی کونہ پہنچنے سے طلاق کا حکم
سوال
بیوی شوہر سے ناراض ہو کر اپنی ماں کے گھر چلی گئی شوہر نے کچھ دن بعد وکیل کے پاس جا کے غصے میں ایک نوٹس پر تین طلاق لکھوالی جس میں یہ لکھا ہے کہ "من مقر اپنے بقائمی ہوش و حواس بلا جبر و اکراہ روبرو گواہاں حاشیۃ مسماۃ کنیز فاطمہ دختر سلطان سکندر ساکن نور حیات کالونی بھلوال ضلع سرگودھا کو طلاق دے کر اپنی زوجیت سے الگ کرتا ہوں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ۔یہ آج کے بعد مسماۃ مذکوریہ من مقر کے نفس پر حرام ہے ۔عدت پوری ہونے کے بعد مسماۃ مذکوریہ جس سے چاہے نکاح کرے ،من مقر کو کوئی عذرو اعتراض نہ ہوگا،اور من مقر کی مسماۃ مذکوریہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی لین دین باقی نہ رہی "اور اس پر دو گواہ تھے جن کو پتہ نہیں تھا کہ وہ کس چیز کے نوٹس پر دستخط کر رہے ہیں ایک گواہ شوہر کا بھائی تھا اور ایک گواہ دوست تھا وکیل نے شوہر کو بولا کے اس نوٹس کی تین فوٹو کاپی کروا لو اور ہر مہینے بیوی کو ایک نوٹس بھیجنا ہے شوہر نے بولا ٹھیک ہے شوہر نے ایک فوٹو کاپی بیوی کے بھائی کو دے دی لیکن کچھ دیر بعد شوہر نے بیوی کے بھائی کو بولا کے تم نوٹس پھاڑ دو میری بیوی کو نہیں دینا ۔ بھائی نے نوٹس پھاڑ دیا ۔ بیوی کو طلاق کے بارے میں پتہ نہیں تھا ،،، تو کیا طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ طلاق جس طرح زبانی دینے سے واقع ہوتی ہے اسی طرح کسی کاغذ پر لکھ دینے سے بھی واقع ہوتی ہے ،تاہم اگر طلاق اسٹامپ پیپر یا دوسرے مروجہ طریقے سے لکھی گئی ہو تو اس کو طلاق مرسومہ مستبینہ کہتے ہیں ،اس میں طلاق کے الفاظ لکھتے ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ چنانچہ طلاق کی خبر بیوی کو ہونا ضروری نہیں ہے بغیر خبر ہوئے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔
صورت مسؤلہ میں اگر شوہرنے وکیل کے پاس جاکر اس سے تین طلاق لکھوائی ہو تو اس کی بیوی پر اسی وقت تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ،چاہے گواہوں کو اس کے بارے میں علم ہو یا نہ ہو ،اسی طرح طلاق کے واقع ہونے کے لیے نوٹس کے پیپر بیوی کے پاس پہنچنا ضروری نہیں ہے اس لیے بغیر پہنچے بھی طلاق واقع ہوگئی ہے ۔
الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا... وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.(الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق،الباب الثانى في ايقاع الطلاق، الفصل السادس في الطلاق بالكتابة، ج:1، ص:378)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں