بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
امام کا مسجد کے در میں کھڑا ہونا
سوال
امام صاحب مسجد کے ہال کے دروازے یعنی دروں میں کھڑا ہو تا ہے اور مقتدی مسجد کے صحن میں ہو تے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہے کہ امام اور مقتدی کی جگہ کا متحد ہونا شرط ہے خواہ حقیقتاً متحد ہویا حکماً، یہی وجہ ہے کہ فقہا کرام نے امام کے لیے محراب کے اندر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کو مکروہ تنزیہی قرار دیا ہے کیونکہ ایسی صورت میں امام ،اور مقتدیوں کی جگہوں میں علیحدگی کا شبہ پایا جاتا ہے، البتہ اگر امام کے قدم محراب سے باہر ہوں اور سجدے محراب کے اندرہوں تو پھر مذکورہ کراہت نہیں ہو گی۔
صور ت مسؤلہ کے مطابق مسجد کے دروں کا حکم بھی محراب جیسا ہے کہ اگر امام دروں میں اس طرح کھڑا ہوکہ قدم بھی اندر ہوں یا شمالا ًوجنوباًدروں کے محاذات یعنی سیدھ میں ہو توچونکہ امام کی جگہ مقتدیوں سے علیحدہ ہو نے کا شبہ ہو تا ہے اس لیے اس میں کراہت تنزیہی ہوگی اور اگر قدم دروں سے باہر ہوں تو پھر کوئی کراہت نہیں ہوگی۔
(وقيام الإمام في المحراب لا سجوده فيه) وقدماه خارجة لأن العبرة للقدم (مطلقا) وإن لم يتشبه حال الإمام إن علل بالتشبه وإن بالاشتباه ولا اشتباه فلا اشتباه في نفي الكراهة... (قوله إن علل بالتشبه إلخ) قيد للكراهة. وحاصله أنه صرح محمد في الجامع الصغير بالكراهة ولم يفصل؛ فاختلف المشايخ في سببها، فقيل كونه يصير ممتازا عنهم في المكان لأن المحراب في معنى بيت آخر وذلك صنيع أهل الكتاب، واقتصر عليه في الهداية واختاره الإمام السرخسي وقال إنه الأوجه، وقيل: اشتباه حاله على من في يمينه ويساره، فعلى الأول يكره مطلقا، وعلى الثاني لا يكره عند عدم الاشتباه، وأيد الثاني في الفتح بأن امتياز الإمام في المكان مطلوب، وتقدمه واجب وغايته اتفاق الملتين في ذلك، وارتضاه في الحلية وأيده، لكن نازعه في البحر بأن مقتضى ظاهر الرواية الكراهة مطلقا، وبأن امتياز الإمام المطلوب حاصل بتقدمه بلا وقوف في مكان آخر، ولهذا قال في الولوالجية وغيرها: إذا لم يضق المسجد بمن خلف الإمام لا ينبغي له ذلك لأنه يشبه تباين المكانين انتهى. يعني: وحقيقة اختلاف المكان تمنع الجواز فشبهة الاختلاف توجب الكراهة والمحراب وإن كان من المسجد فصورته وهيئته اقتضت شبهة الاختلاف اهـ ملخصا۔
قلت :لأن المحراب إنما بني علامة لمحل قيام الإمام ليكون قيامه وسط الصف كما هو السنة، لا لأن يقوم في داخله، فهو وإن كان من بقاع المسجد لكن أشبه قلت مكانا آخر فأورث الكراهة، ولا يخفى حسن هذا الكلام فافهم، لكن تقدم أن التشبه إنما يكره في المذموم وفيما قصد به التشبه لا مطلقا، ولعل هذا من المذموم. هذا وفي حاشية البحر للرملي: الذي يظهر من كلامهم أنها كراهة تنزيه تأمل اهـ۔ (رد المحتار على الدر المختار، کتاب الصلوة، باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها، ج: 1، ص:645)
والأصح ماروي عن أبي حنيفة رحمه الله أنه قال:أكره للإمام أن يقوم بين الساريتين، أو في زاوية، أو ناحية المسجد،أو إلى سارية؛لأنه بخلاف عمل الأمة.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلوٰة، باب ما يفسد الصلوٰة، وما يكره، مطلب إذا ترددالحكم بين سنة وبدعة، ج:1، ص: 612)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں