بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
قعدہ اولیٰ اور قعدہ اخیرہ میں شامل مسبوق کے لیے تشہد پڑھنے کا حکم
سوال
سوال نمبر: 172865 عنوان:قعدے میں شامل ہوتے ہی امام كھڑا ہوجائے تو مقتدی كیا كرے؟
سوال:درج ذیل مسئلے کی تصدیق فرمادیجیے کہ یہ درست ہے یا نہیں؟ *نماز میں قعدہ اولی اور قعدہ اخیرہ میں شریک ہونے والوں کے لیے ایک انتہائی اہم مسئلہ* قعدہ اولی میں شریک ہونے والے کے حق میں التحیات کا حکم:
جب امام قعدہ اولیٰ میں ہو اور اسی اثنا میں کوئی شخص آ کر اقتدا کرے اور اس کے اقتدا کرکے بیٹھتے ہی امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے تو یہ مقتدی التحیات پوری کرے گا یا امام کے اتباع میں التحیات چھوڑ کر کھڑا ہو جائے گا؟ تو اس میں حکم یہ ہے کہ پہلے التحیات پوری کر لے اس کے بعد امام کا اتباع کرے، اگر التحیات چھوڑ کر امام کے ساتھ کھڑا ہوجائے تو اس مقتدی مسبوق کی نماز مکروہِ تحریمی ہو گی ۔یاد رہے کہ یہ حکم فرائض اور تراویح سب کے لیے ہے۔اگر امام قعدہ اخیرہ میں ہو اور اسی اثنا میں کوئی شخص آ کر اقتدا کرکے التحیات کے لیے بیٹھ جائے اور اس کے بیٹھتے ہی امام سلام پھیر دے تو یہ شخص اپنی بقیہ نماز پوری کرنے کے لیے فورا کھڑا ہو جائے گا یا التحیات پوری کرنے کے بعد کھڑا ہو گا ؟ تو اس میں واجب یہ ہے کہ امام کے سلام کے بعد یہ شخص اطمینان کے ساتھ اپنی التحیات پوری کرکے بقیہ نماز پوری کرنے کے لیے کھڑا ہو گا اور اگر التحیات چھوڑ کر فوراً کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کی نماز مکروہِ تحریمی ہو گی۔ (شامی ج 1 ص 296) ۔دیکھنے میں آتا ہے کہ اکثر لوگ اس مسئلے سے بے خبر ہوتے ہیں، عوام تو عوام، خواص بھی اس اہم مسئلہ سے ناواقف ہیں اور امام کے سلام پھیرتے ہی التحیات پوری کیے بغیر فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لہذا اس اہم مسئلہ کو ایک دینی فریضے کی ادائیگی سمجھتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں! آپ کا بھی ثواب میں ضرور حصہ ہوگا باِذن اللہ!!. اللہ تعالٰی ہمیں احکام شریعت کو صحیح سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
جواب نمبر: 172865 بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa : 1443-1187/H=01/1441 آپ نے جو مسئلہ لکھا ہے وہ درست ہے، شامی: ۲/۱۹۹، ۲۰۰، ط: زکریا دیوبند ۔ احسن الفتاویٰ : ۳/۳۷۶، ط: زکریا دیوبند ۔ امداد الفتاویٰ : ۱/۵۱۰، ط: زکریا دیوبند میں مسئلہ یہی لکھا ہوا ہے کہ کوئی شخص صورت مسئولہ میں تشہد پوری کئے بغیر کھڑا نہ ہو، بلکہ اس کو تشہد پڑھ کر ہی کھڑا ہونا چاہئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند اور آپکا جواب اس سے بالکل الگ ہے۔
جواب
مسبوق قعدہ اولیٰ یا اخیرہ میں جب امام کے ساتھ نماز میں شامل ہوجائے اور امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے یا سلام پھیر دے تو مسبوق تشہد پوری کرے گا یا امام کی اتباع کرے گا ؟اس مسئلہ میں فقہا کے اقوال مختلف ہیں ،چنانچہ بعض فقہا فرماتے ہیں کہ مسبوق تشہد مکمل کیے بغیر تیسری رکعت کے لیے یا بقیہ نماز پوری کرنے کے لیے کھڑا ہوجائے تو نماز صحیح ہے، البتہ بعض فقہا فرماتے ہیں کہ اتمام تشہد ضروری ہے ،اتمام کیے بغیر کھڑا ہوجائے تو نماز مکروہِ تحریمی ہوگی۔
جن فقہا کے کے نزدیک اتمام تشہد کے بغیر نماز صحیح ہے وہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں دو واجب آپس میں متعارض ہوجاتے ہیں،چنانچہ مسبوق کودونوں میں سے کسی ایک واجب پر عمل کرنے کا اختیار ہوتا ہے ۔علامہ طحطاویؒ لکھتے ہیں کہ تعارض واجبین کی صورت میں اختیار دینا مشہور فی المذہب ہے۔
(قوله لوجوبه) علة غير منتجة فإن المتابعة واجبة أيضا، (قوله جاز) أي من غير كراهة لأنه قد تعارض واجبان فيخير من غير كراهة واستظهر الحلبي حمل الجواز على الصحة وأثبت كراهة التحريم لأن التشهد يفوت لا إلى بدل وهو بعيد.(حاشية الطحطاوي على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:220)
وإن لم يتم جاز لتعارض واجبين فيتخير بينهما هذا هو المشهور في المذهب.(طحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، فصل فيما يفعله المقتدي بعد فراغ إمامه، ص:160)
ولو قام إلى الثالثة قبل أن يتم المأموم التشهد يتمه، وإن لم يتم وقام جاز، وفي القعدة الثانية إذا سلم أو تكلم الإمام وهو في التشهد يتمه.(فتح القدير، كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة، ج:1، ص:484)
وقراءة التشهد فيهما واجبة، وليس بفرض، حتى لو تركها لا تفسد صلاته عندنا،وإن قرأ بعض التشهد وترك البعض، ففي بعض الرواية:أنه يجوز صلاته أيضا، وذكر في بعض الروايات فيما إذا قعد قدر التشهد وقرأ بعض التشهد اختلافا بين أبي يوسف ومحمد، عند أبي يوسف يجوز صلاته، كما لو ترك الكل، وعند محمد لا يجوز صلاته؛ لأنه إذا شرع في القراءة افترض عليه الإتمام، وإذا تركها فقد ترك الفرض فتفسد صلاته.
وإذا فرغ الإمام من التشهد المؤتم لم يفرغ بعد، ففي القعدة الأولى لا يتابع الإمام ما لم يتشهد، وفي فتاوى الحجة: يتابعه؛لأن المتابعة فرض، وقال الفقيه أبو الليث رحمه الله: الصحيح أن المقتدي يتم التشهد؛ لأنه من الواجبات، وفي القعدة الأخيرة يتابع الإمام ويسلم معه.
وفي الكبرى: ومن أدرك الإمام في التشهد فقام الإمام، أو سلم في آخر الصلاة قبل أن يتم المقتدي تشهده، قال الفقيه أبو الليث: المختار عندي أنه يتم تشهده؛ لأن التشهد من الواجبات، وإن لم يفعل أجزأه.(الفتاوى التاتارخانية، كتاب الصلاة، فصل كيفية الصلاة، ج:2، ص:192،191،182)
رد المحتار میں علامہ شامیؒ نے غنیۃ المستملی کے حوالے سے لکھا ہے کہ نماز مکروہِ تحریمی ہوگی ،کیوں کہ فرائض وواجبات میں امام کی متابعت بغیر تاخیر کے واجب ہے ،اگر کسی واجب کا معارض دوسرا واجب ہو تو یہ مناسب نہیں کہ پہلا واجب چھوڑ دیا جائے بلکہ اس واجب کو ادا کرے اور پھر امام کی اتباع کرے کیوں کہ اس واجب کو ادا کرنے کی وجہ سے اما م کی اتباع بالکلیہ فوت نہیں ہوتی بلکہ صرف مؤخر ہوتی ہے اور واجب کو چھوڑ کر امام کی اتباع کرنے سے ایک واجب بالکلیہ فوت ہوجاتا ہے ،لہذا دونوں واجبوں کو ادا کرنا اولیٰ ہے بخلاف اس کے کہ ایک واجب کو بالکلیہ چھوڑ دے اور دوسرے واجب کو ادا کرے ۔
(قوله ولو لم يتم جاز) أي صح مع كراهة التحريم كما أفاده ح، ونازعه ط والرحمتي، وهو مفاد ما في شرح المنية حيث قال: والحاصل أن متابعة الإمام في الفرائض والواجبات من غير تأخير واجبة فإن عارضها واجب لا ينبغي أن يفوته بل يأتي به ثم يتابعه لأن الإتيان به لا يفوت المتابعة بالكلية وإنما يؤخرها، والمتابعة مع قطعه تفوته بالكلية، فكان تأخير أحد الواجبين مع الإتيان بهما أولى من ترك أحدهما بالكلية، بخلاف ما إذا عارضتها سنة لأن ترك السنة أولى من تأخير الواجب.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:496)
بخلاف ما لو قام إلى الثالثة قبل أن يتم المقتدي التشهد فإنه يتم ثم يقوم لأن التشهد واجب وإن لم يتمه وقام جاز وكذا في القعدة الأخيرة لو سلم قبل أن يتم المقتدي التشهد ثم يسلم ولو سلم ولم يتمه جاز.....فالحاصل أن متابعة الإمام في الفرائض والواجبات من غير تاخير واجب فإن عارضها واجب لا ينبغي أن يفوت ذالك الواجب بل يأتي به ثم يتابع لأن الإتيان به لا يفوت المتابعة بالكلية وإنما يؤخرها والمتابعة مع قطعه تفوته بالكلية فكان تأخير الواجبين مع الإتيان بهما أولى من ترك أحدهما بالكلية بخلاف ما إذا عارضها سنة لأن ترك السنة أولى من تأخير الواجب.(حلبي كبير، كتاب الصلاة، فصل في الإمامة، شروط المحاذات، ص:454)
وفي القنية أيضا للمقتدي نسي التشهد في القعدة الأولى فذكر بعد ما قام عليه أن يعود ويتشهد بخلاف الإمام والمنفرد للزوم المتابعة كمن أدرك الإمام في القعدة الأولى فقعد معه فقام الإمام قبل شروع المسبوق في التشهد فإنه يتشهد تبعاً للتشهد إمامه فكذا هذا.(حلبي كبير، كتاب الصلاة، فصل في سجود السهو، ص:397)
مذکورہ بالا تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ اس مسئلہ میں فقہائے کرام کی دو آراء ہیں۔بعض حضرات نے پہلی رائے کو جب کہ بعض نے دوسری رائے کو ترجیح دی ہے،اسی وجہ سے اردو فتاویٰ میں بھی دونوں رائے پائی جاتی ہیں۔پہلی رائے چونکہ ایسر واوسع ہے اس لیے ہمارے دار الافتاء سے اس کے مطابق فتویٰ جاری ہوتا ہے۔واللہ تعالیٰ أعلم