بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

واجب قربانی اورعقیقہ میں تداخل


سوال

کیا قربانی واجب اور عقیقہ میں تداخل ہو سکتا ہے؟ جس طرح ایک نماز میں دو نیتوں کی صورت میں تداخل ہوتا ہے اور دونوں صحیح ہوتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ چھوٹے جانور میں یا  بڑے جانور کے صرف ایک  حصے میں شرعاً صرف  ایک  ہی نیت کی جاسکتی ہے، خواہ قربانی کی نیت  ہو یا عقیقہ کی، ایک حصے میں دو نیتیں درست نہیں، البتہ قربانی کے بڑے  جانور (اونٹ، گائے، بھینس وغیرہ) کے سات حصوں میں قربانی کے حصہ کے علاوہ عقیقہ کی نیت سے مستقل حصہ شامل کیا جاسکتا ہے، جو حصہ عقیقہ کی نیت کا ہوگا وہ عقیقہ شمار ہوگا، باقی حصے قربانی کے شمار ہوں گے،نیزکسی بھی نفلی عمل یا نفلی عبادت کی ادائیگی  میں ایک عمل کرتے ہوئے متعدد نیتیں کی جا سکتی ہیں چنانچہ فرض اور واجب کے علاوہ باقی  نفل نمازوں میں ایک سے زائد کی نیت کرنا درست ہے،جبکہ فرض اور واجب عمل کی ادائیگی میں متعدد نیتیں نہیں کی جاسکتی ہیں۔  

صورت مسؤلہ کے مطابق قربانی کے چھوٹے جانور یا بڑے جانور کے صرف ایک حصہ میں واجب قربانی اور عقیقہ،دونوں  کی نیت کرنا جائز نہیں ،کیونکہ قربانی واجب ہے اس میں دوسری نیت درست نہیں۔

 

"وأما قدره ‌فلا ‌يجوز ‌الشاة ‌والمعز ‌إلا ‌عن ‌واحد وإن كانت عظيمة سمينة تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهماالاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس". (بدائع الصنائع ،كتاب التضحية،فصل في محل إقامة الواذب في الأضحية، ج:5، ص:80)

" ثم إنه إن جمع بين عبادات الوسائل في النية صح، كما لو اغتسل لجنابة، و عيد، وجمعة اجتمعت ونال ثواب الكل، وكما لوتوضأ لنوم، وبعد غيبة ، وأكل لحم جزور، وكذا يصح لو نوى نافلتين أو أكثر، كما لو نوى تحية مسجد وسنة وضوء وضحى، وكسوف، والمعتمد أن العبادات ذات الأفعال يكتفي بالنية في أولها ولا يحتاج إليها في كل جزء اكتفاء بانسحابها عليها، ويشترط لها الإسلام۔ والتمييز، والعلم بالمنوى، وأن لا يأتي بمناف بين النية والمنوي". (حاشية الطحطاوي، باب شروط الصلاة،وأركانها، ج: 1، ص: 216)


فتویٰ نمبر : 10038/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں