بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کا اپنےشوہر کو نذر کے پیسے دینا


سوال

اگر ایک شخص پر لاکھوں کا قرض ہے اور ابھی قرض کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں اور اس شخص کی بیوی کو اپنے والد کی میراث سے کچھ حصہ مل جاتا ہے ۔ جبکہ اس کی بیوی نے نذر مانی تھی کہ اگر یہ حصہ مل گیا تو وہ ایک دیگ خیرات کرے گی ، اب جبکہ اس کے شوہر کے حالات خراب ہیں تو کیا وہ عورت اپنے شوہر کو اس دیگ کی قیمت خیرات کر سکتی ہے ؟

جواب

اگر کسی شخص نے نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا ہو ،تو جب وہ شرط پوری ہوجائے تو اس  پر نذر پوری کرنا  واجب ہوجاتا ہے،صورت مسؤلہ کے مطابق   بیوی  نے جو نذر مانی ہے یہ  نذر معلق  ہے لہذا اگر شرط پوری ہوگئی ہویعنی والد کے میراث میں حصہ مل گیا ہوتواس پر نذرپوری کرنا واجب ہوگالیکن اپنے شوہر کو   نذ ر کی  رقم نہیں دے سکتی ۔

 

ولايدفع إلى امرأته للاشتراك في المنافع عادة، ولاتدفع المرأة إلى زوجها عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، كذا في الهداية". فقط. (الفتاوی الهنديه،کتاب الزکوة،ص:250،ج:1)

باب المصرف (قوله: أي مصرف الزكاة والعشر) يشير إلى وجه مناسبته هنا، والمراد بالعشر ما ينسب إليه كما مر فيشمل العشر ونصفه المأخوذين من أرض المسلم وربعه المأخوذ منه إذا مر على العاشر أفاده ح. وهو مصرف أيضا لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة كما في القهستاني.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكوة،ص:283،ج:3)


فتویٰ نمبر : 10062/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں