بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

وارث کی موروثی مکان میں ذاتی کمائی سے کی گئی اضافی تعمیر


سوال

ہم  دو بھائی اور چھ بہنیں ہیں۔ میرے والد صاحب جنوری 2013 میں فوت ہوگئے تھے۔ اس وقت ہم نے وراثت کی تقسیم نہیں کی اور بغیر تقسیم کے تمام بھائیوں اور بہنوں نے خوشی سے یہ کہا کہ ہمارے والد صاحب کی میراث میں ہمارا جتنا حصہ ہے وہ ہم سب اپنی والدہ صاحبہ کوہدیہ کرتے ہیں اور خوشی سے والدہ صاحبہ کو مکمل اختیار  دےدیا۔پھر اکتوبر 2021 میں والدہ صاحبہ  بھی فوت ہوگئی۔ اور وراثت کی تقسیم اسی طرح باقی رہی صرف گھر کے عام استعمال کے سامان کو ہم نے شریعت کے مطابق تقسیم کیا جب والد صاحب کی ملکیت کا گھر جو کہ ہم نے بغیر تقسیم کے خوشی سے والدہ صاحبہ کو ھدیہ کیا تھا، اسکی تقسیم باقی ہے۔ والد صاحب کے وفات کے بعد ایک بھائی جو اوپر پورشن میں رہتا ہے،اس نے  اپنے خرچے سے ایک اضافی کمرہ کی تعمیر اور کچھ اورفرش و الماری وغیرہ کے بنانے، تعمیر و مرمت کاکام کیا تھا۔ والد صاحب کے وفات کے بعد گھر کے خرچے کیلئے آمدن کا کوئی اجتماعی نظام نہیں تھا، والدہ صاحبہ پنشن وصول کرکے اپنی مرضی سے خرچہ کرتی اور ایک بھائی جو اوپر پورشن میں رہتا ہے اپنے خرچے کا انتظام خودکرتا تھا۔ اور گھر کے بعض اجتماعی خرچے بھی یہ بھائی کرتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب جب وراثت تقسیم ہوگی تو یہ بھائی والد صاحب کی وفات کے بعد وہ تعمیر اور اضافی کام جو اس نے ذاتی استعمال کیلئے اپنے ذاتی خرچے سے کیا تھا وہ الگ لے سکتا ہیں، یا وہ بھی اجتماعی سب میں برابر تقسیم ہوگی ؟اور اگر لے سکتا ہے تو اس وقت کے خرچ کے مطابق لے گا یا آج کے حساب سے یا مناسب اندازہ سے جس پر اگر سب متفق ہو،اور اگر متفق نہ ہو تو پھر  کیا حکم ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ  مورث کی وفات کے بعد اس کی متروکہ جائیداد قبل از تقسیم ورثا کی  مشترک ملک ہوتی ہے اور فقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر کوئی شریک اپنے شرکا کی اجازت سے  اپنے لیے ملک ِمشترک میں  مرمت اور  اضافی تعمیر وغیرہ کرے تو اضا فی تعمیرات اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوتی ہے، دوسرے ورثا  کا اس میں حصہ نہیں  ہوتا ، لیکن  اگر کسی شریک نے دیگر شرکا کی اجازت کے  بغیر ملک مشترک  میں مرمت اور تعمیر وغیرہ کی ، اور اس تعمیرکو شرکا استعمال کرتے رہے، تو یہ اس کی طرف سے تبرع واحسان متصور ہوگا۔

صورتِ مسئولہ  کے مطابق جس بھائی نے مرحوم والد کے متروکہ مکان میں اضافی تعمیر کی اگراس نے یہ تعمیراپنے لیے  کی تھی، شرکاء کے لیے نہیں تواضافی تعمیراسی کی ملکیت شمار ہو گی ، لہٰذا باہم اتفاق سےاس کی جو بھی قیمت طے کرلی جائے، وہ اس کا مستحق ہو گا۔

 

إذا عمرأحدالشريکين الملك المشترك، ففي ذالك احتمالات أربعة ۔۔۔الاحتمال الثاني :إذا عمر أحدالشريکين المال المشترك للشركة بدون إذن الشريك كان متبرعا۔۔۔۔الاحتمال الرابع:إذا عمرأحدالشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه ، فتكون التعميرات المذكورة ملكا له ،وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغيرالمستهلكة،مالم يكن رفعها مضرا بالأرض ، ففي هذاالحال يمنع من رفعها۔(دررالحكام في شرح مجلةالأحكام،الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة،الفصل الأول في تعميرالأموال المشتركة۔۔۔إلخ، المادة1309، ج: 2، ص: 315)

 (صح الإعارة) أي إعارة الأرض (للبناء والغرس) ؛ لأن منفعتها معلومة تملك بالإجارة فتملك بالإعارة (وله) أي للمعير (أن يرجع) ؛ لأن الإعارة ليست بلازمة (ويكلف قلعهما) أي البناء والغرس؛ لأنه شاغل أرضه بملكه فيؤمر بالتفريغ إلا إذا شاء أن يأخذهما بقيمتهما إذا استضرت الأرض بالقلع فحينئذ يضمن له قيمتهما مقلوعين، ويكونان له ؛كي لا تتلف أرضه عليه ،ويستبد ذلك به؛ لأنه صاحب أصل، وإذا لم تستضر به لا يجوز الترك إلا باتفاقهما، ولا يشترط الاتفاق في القلع، بل أيهما طلبه أجيب (وضمن رب الأرض ما نقص) البناء والغرس بالقلع (إن وقت) لعارية؛ لأنه مغرور من جهته حيث وقت له والظاهر هو الوفاء بالعهد فيرجع عليه دفعا للضرر عن نفسه (وكره) أي الرجوع (قبله) أي قبل وقت عين؛ لأن فيه خلف الوعد۔ (درر الحكام في شرح غرر الأحكام،كتاب العارية،إعارة الأرض للبناء والغرس، ج،2، ص:243)


فتویٰ نمبر : 3597/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں