بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بہن کا اپنا حق میراث لینے سے انکار کے بعد مطالبہ کرنا


سوال

میراث کی تقسیم کا مرحلہ  شروع   ہونے کو تھا کہ بھائیوں نے اپنی بہن کو کال کی کہ ہم زمین تقسیم  کر رہے ہیں ،آپ کا کیا خیال ہے  آپ کے لینے کا ارادہ ہے یا نہیں  اس نے  جواب میں کہا کہ میرا ارادہ نہیں  ، بھائیوں نے زمین آپس میں تقسیم کر دی  اب  بہن کہتی ہے  مجھے  3 یا 4 مرلے زمین دی جائے  تاکہ گاؤں میں اپنا گھر بنا دوں ، کیا بہن کا ایسا مطالبہ  کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

حق وراثت کی بنا پر میراث  میں ورثاء کو جو  کچھ ملتا ہے وہ ان کے اختیار  سے نہیں ملتا   بلکہ غیر اختیاری اور اضطراری طور پر  میراث کے مالک ہوتے ہیں ، لہذا میت کے مرنے کے بعد اس کا ترکہ  ورثاء  کے درمیان تقسیم  کر کے  ہر ایک کے قبضہ میں منتقل کر دینا  لازم  ہے  اور تقسیم سے پہلے زبانی  طور پر اپنا حصہ  لینے سے انکار کرنے سے حصہ ساقط نہیں ہوتا۔

لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق اگر کوئی بہن اپنے بھائیوں سے یہ کہہ دے کے میرا حصہ لینے کا ادرادہ نہیں تو محض اس طرح کہنے سے اس کا حصہ ساقط نہیں ہو تا  بلکہ باقی رہتا ہے   ، لہذا بعد میں اس کا اپنے حصے کا مطالبہ کرنا  شرعاً  جائز ہے۔

 

‌‌الإرث ‌جبري لا يسقط بالإسقاط. ( ردالمحتار على الدر المختار ،كتاب الدعوى ، باب التخالف، ج:11،ص:678)

ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لأن ‌الإرث ‌جبري لا يصح تركه. ( ردالمحتار على الدرالمختار  ، كتاب الدعوى، باب دعوى النسب،ج:8،ص:208)


فتویٰ نمبر : 3598/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں