بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

یتیم پوتوں کے لیے وصیت کرنا


سوال

اکبر شاہ کے چا ر بیٹے  تھے  ان میں ایک بیٹے کے انتقال کے  بعد اکبر شاہ نے اپنے یتیم پوتوں کے لیے اس طور پر وصیت کی کہ جتنے حصے میرے  اور دیگر   بیٹوں کو  ملیں گے تو میں ان پوتوں کے لیے وصیت کرتا ہوں کہ ایک بیٹے کے حصے میں میری جتنی میراث آئے گی اتنا حصہ  ان  یتیم بچوں کو دیا  جائے ، کیا ازروئے شریعت اس  طرح وصیت جائز ہو گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جن لوگوں کو میراث میں حصہ ملتاہے ، ان کے لیے وصیت معتبر نہیں ،لیکن جو لوگ میراث  میں حصہ پانے سے محروم ہوں ، ان کے لیے وصیت کرنا درست اور جائز ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق  پوتے چونکہ  اکبر شاہ  کے بیٹوں کی موجودگی  میں میراث سے محروم ہیں  ، اس لیے ان کے لیے  یہ وصیت  كرنا  جائز ہے ، اور چونکہ یہ وصیت تہائی سے کم میں ہے اس لیے نافذ ہو گی ۔

 

 (‌وتجوز ‌بالثلث ‌للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه.( ردالمحتار على الدرالمختار ، كتاب الوصايا ، ج:6،ص:650 )

‌من ‌شرائطها ‌أن ‌يكون ‌الموصى به مقدار الثلث لا زائدا عليه، وهو ليس بسديد على إطلاقه فإن الموصي إذا ترك ورثة فإنما لا تصح وصيته بما زاد على الثلث. ( البحر الرائق ، كتاب الوصايا ، ج:8، ص: 460)


فتویٰ نمبر : 3599/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں