بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

تکبیراتِ تشریق چھوٹنے کا حکم


سوال

میں نے ذی الحج کی 12 تاریخ  کو نماز عصر کے بعد تکبیراتِ  تشریق کہنا بند کروادیا تھا، اس وقت سب مقتدی خاموش رہ گئے تھے، بعد میں کسی ایک ساتھی نے یاد دلایا، توسمجھ میں آیا کہ واقعی آخری پانچ نمازوں کے بعد تکبیراتِ تشریق رہ گئے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ان کی قضا کی کوئی صورت ممکن ہوسکتی  ہے؟

جواب

تکبیرات تشریق ایامِ تشریق کے ساتھ خاص ہیں۔ اورایامِ تشریق نو ذی الحجہ کی فجر سے تیرہ ذی الحجہ کی عصر تک ہیں۔ نیز تکبیراتِ تشریق ایام تشریق میں فرض نمازوں کے بعد فوری طور پر پڑھنا ضروری ہے، لہذا اگرایام تشریق کے دن گزر جائیں یا ان دنوں میں فرض نماز کےبعد تکبیرات پڑھ لینے سے پہلے کوئی ایسا فعل سرزد ہوجائے، جس سے نماز ٹوٹ جاتی ہو، تو تکبیرات ساقط ہو جائیں گی اور بعد میں ان کی قضا واجب نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی سے ایامِ تشریق کی تکبیرات رہ جائیں تو بعد میں ان کی قضا ممکن نہیں، البتہ ترک واجب پر استغفارکیا جائے۔

 

وأيام النحر ثلاثة، وأيام التشريق ثلاثة، ويمضي ذلك كله في أربعة أيام فاليوم العاشر من ذي الحجة للنحر خاصة، واليوم الثالث عشر للتشريق خاصة، واليومان فيما بينهما ‌للنحر ‌والتشريق ‌جميعا.(بدائع الصنائع،كتاب الصلاة، ج:1، ص: 276)

وأما محل أدائه فدبر الصلاة وفورها من غير أن يتخلل ما يقطع حرمة الصلاة حتى لو ضحك قهقهة أو أحدث متعمدا أو تكلم عامدا أو ساهيا أو خرج من المسجد أو جاوز الصفوف في الصحراء لا يكبر؛ لأن التكبير من خصائص الصلاة حيث لا يؤتى به إلا عقب الصلاة فيراعى لإتيانه حرمتها وهذه العوارض تقطع حرمتها.(البحر الرائق، كتاب الصلاة، ج:2 ، ص:178)


فتویٰ نمبر : 10029/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں