بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قربانی نہ کرنے کی صورت میں واجب شدہ صدقہ نواسے کو دینا


سوال

مجھ پرقربانی واجب تھی، لیکن میں نے سستی کی وجہ سے قربانی کے ایام میں قربانی نہیں کی، اب میرا نواسہ بیمار ہے اور ڈاکٹروں نے ہسپتال میں داخل کیا ہے جس کے علاج پر بہت پیسے خرچ ہوتے ہیں  تو کیا میں قربانی کے پیسے اپنے نواسے کو دے سکتا ہوں یا نہیں؟ کہ وہ ان پیسوں سے اپنا علاج مکمل کر سکے اور اس کا باپ بھی فوت ہو چکا ہے۔

جواب

جس شخص پر قربانی واجب ہو اور وہ قربانی کے ایام میں قربانی نہ کرے تو اس پرایک بکرے یا دنبے کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہو جاتا ہے، نیز صدقات واجبہ اپنے اصول (باپ،ماں،دادا،دادی،نانا،نانی) اور فروع (بیٹا،بیٹی،پوتا،پوتی،نواسہ،نواسی) کو دینا شرعا جائز نہیں۔

لہذا صورت مسؤلہ میں سائل قربانی نہ کرنے کی وجہ سے واجب شدہ قیمت اپنے نواسے کو نہیں دے سكتا۔

 

‌ولو ‌لم ‌يضح ‌حتى ‌مضت أيامها وكان غنيا وجب عليه أن يتصدق بالقيمة سواء اشتراها، أو لم يشترها، وإن كان فقيرا فإن كان اشتراها وجب عليه التصدق بها۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الأضحية، ج:8، ص: 322، دارالكتب العلمية)

(‌قوله ‌وأصله، ‌وإن ‌علا وفرعه، وإن سفل) بالجر أي لا يجوز الدفع إلى أبيه وجده، وإن علا، ولا إلى ولده وولد ولده، وإن سفل۔۔۔وفيه إشارة إلى أن هذا الحكم لا يخص الزكاة بل كل صدقة واجبة لا يجوز دفعها لهم۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الزكاة، باب المصرف، ج:2، ص:425، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 10027/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں