بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

سر کےبال نکلنے کے بعد دوبارہ لگانا


سوال

جس آدمی کے سر کے بال نکل جائیں تو نئے بال لگانا کیسا ہے؟اور اس کے لیے جو کٹ لگایا جاتا ہےتو یہ اپنے آپ کو نقصان دینے میں آتا ہے یا نہیں؟اور یہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص گنجے پن کے علاج کے لیےاپنے ہی بدن کے کسی حصے کے بال نکال کرمتاثرہ حصے کے مسامات میں پیوست کروانا چاہے جس سے وہ بال قدرتی بالوں کی طرح اُگ آئیں تو یہ طریقہ علاج اختیار کرنے کی گنجائش ہےاس لیے کہ اس میں نہ تزویر یعنی جھوٹ ہے اور نہ ہی کسی دوسرے آدمی کے جز سے انتفاع،بلکہ قدرتی حسن کو بحال رکھنا مقصود ہےاور فقہائے کرام کے ہاں علاج اور معالجے کے باب میں وسعت پائی جاتی ہے۔ تاہم کسی دوسرے انسان کے بال لگوانا شرعاً ناجائز ہے،حدیث شریف میں ایسے شخص پر لعنت وارد ہوئی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر سر پر لگوائے جانے والے بال اسی لگانے والے شخص کے جسم کے کسی حصہ کے ہوں یا خنزیر کے علاوہ کسی اور جانورکے ہوں تو اس کو سر پر کھال میں بذریعہ سرجری (آپریشن)  پیوست کردینا ازروئے شرع درست ہے، البتہ چونکہ سرجری کے دوران جلد کاٹنے اور چیرنے کی مشقت اٹھانی پڑتی ہے اس لیےبہتر یہ ہےکہ اس سے  اجتناب کیا جائے۔

 

"وفي اختيار: ووصل الشعر بشعر الآدمي حرام، سواء كان شعرها أو شعر غيرها؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «لعن الله الواصلة و المستوصلة و الواشمة و المستوشمة و الواشرة و المستوشرة و النامصة و المتنمصة»...(قوله سواء كان شعرها أو شعر غيرها) لما فيه من التزوير كما يظهر مما يأتي وفي شعر غيرها انتفاع بجزء الآدمي أيضا،لكن في التتارخانية، وإذا وصلت المرأة شعر غيرها بشعرها فهو مكروه، وإنما الرخصة في غير شعر بني آدم تتخذه المرأة لتزيد في قرونها، وهو مروي عن أبي يوسف، وفي الخانية ولا بأس للمرأة أن تجعل في قرونها وذوائبها شيئا من الوبر.(الدّرالمختار مع ردّالمحتار،كتاب الحظروالإباحة،فصل في النّظر والمسّ، ج:9، ص:535-536)


فتویٰ نمبر : 5833/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں