بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

انٹرنیٹ ،کیبل کنکشن کے کاروبار کا حکم


سوال

میرا ایک چچا وفات پا گیا ہے،وفات کے بعد اس کی صرف ایک بیوی رہ گئی ہے باقی اس کے کوئی بچے نہیں ،وہ کیبل اور انٹرنیٹ کا کاروبار کرتے تھے،سب سے پہلےانہوں نے کیبل کا کاروبار شروع کیا تھااور اب اس کا نیٹ ورک کافی پھیلا ہوا ہے،اس کے بعد انہوں نے انٹرنیٹ کا کاروبار شروع کیاتھالیکن یہ انٹرنیٹ کیبل کے پیسوں سے سٹارٹ نہیں ہوا تھا بلکہ کسی سے قرض لیے تھے،اب ہمارے خاندان والے کہتے ہیں کہ یہ کیبل کا کام ختم کرادیں کیونکہ اس کو عذاب ملتا رہے گا۔میرے والد صاحب چونکہ ان کے بڑے بھائی ہیں اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اس کیبل اور نیٹ کو ختم کرادیں،تو کیا ہم مرحوم کے کاروبار(کیبل،انٹرنیٹ)کو ختم کریں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جوچیز  اصل کے اعتبار سے گناہ کے کام میں استعمال ہونے کے لیےنہ  بنی ہو،لیکن لوگ اسے گناہ میں بھی استعمال کرتے ہوں تو اس کا کاروبار  جائز ہے،پھر اگر  کوئی اس کوناجائز اور حرام مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہو تو اس کا وبال اسی پر ہوگا۔

صورت مسؤلہ میں کیبل، انٹرنیٹ کے کاروبار کا چونکہ صحیح مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے،اس لیے اس کے کاروبارکو مطلقاًحرام نہیں کہا جاسکتا، لہذاکاروبارباقی رکھنےکی  گنجائش ہے،تاہم اگر اہل علاقہ کے بارے میں معلوم ہو کہ زیادہ استعمال ناجائز مقاصد کے لیے ہورہا ہے توپھر اس کو ختم کردینا زیادہ بہتر ہے۔

 

"إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضیف الحکم إلی المباشر''۔ (الأشباه والنّظائر،ابن نجيم،القاعدة التاسعة عشر، ص:81)

"وعرف بهذا أنه لا يكره بيع مالم تقم المعصية به كبيع جارية المغنّية."(ردّ المحتار على الدّرالمختار:كتاب الجهاد،باب البغاة،مطلب في كراهية ما تقوم المعصية بعينه، ج:6، ص:421)

"و بيع الغلام الأمرد ممن يعلم أنّه ممن يعص الله يكره لأنّه إعانة على المعصية."(خلاصة الفتاوى، كتاب البيوع، الفصل السادس عشر في الحظر والإباحة، ج:3، ص:100)


فتویٰ نمبر : 3540/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں